فضائل اعمال ۔ یونیکوڈ ۔ غیر موافق للمطبوع |
|
کواللہ کے قَہرسے بہت ہی زیادہ ڈرنے کی ضرورت ہے، کہ موت سے کسی کو چارہ نہیں، دنیا کی عَیش وعِشرت بہت جلد چھوٹنے والی چیز ہے، کار آمدچیز صِرف اللہ کی اِطاعت ہے، بہت سے جاہل تو اِتنے پر ہی کِفایت کرتے ہیں کہ روزہ نہیں رکھتے؛ لیکن بہت سے بد دِین زبان سے بھی اِس قِسم کے اَلفاظ بک دیتے ہیں کہ جو کُفر تک پہنچادیتے ہیں، مثلاً: ’’روزہ وہ رکھے جس کے گھرکھانے کو نہ ہو‘‘، یا ’’ہمیں بھوکا مارنے سے اللہ کو کیا مِل جاتا ہے‘‘ وغیرہ وغیرہ؛ اِس قِسم کے الفاظ سے بہت ہی زیادہ اِحتِیاط کی ضرورت ہے، اور بہت غور واہتمام سے ایک مسئلہ سمجھ لینا چاہیے کہ: دِین کی چھوٹی سی چھوٹی بات کا تمَسخُر اور مَذاق اُڑانا بھی کُفر کا سبب ہوتا ہے، اگر کوئی شخص عمر بھر نماز نہ پڑھے، کبھی بھی روزہ نہ رکھے، اِسی طرح اَور کوئی فرض ادا نہ کرے -بہ شرطے کہ اُس کا مُنکِر نہ ہو- وہ کافر نہیں، جس فرض کو ادا نہیں کرتا اُس کاگناہ ہوتا ہے، اور جو اعمال ادا کرتا ہے اُن کا اجر ملتا ہے؛ لیکن دِین کی کسی اَدنیٰ سے اَدنیٰ بات کا تَمسخُر بھی کُفر ہے، جس سے اَور بھی تمام عمر کے نماز، روزے، نیک اعمال ضائع ہوجاتے ہیں، بہت زیادہ قابلِ لحاظ اَمر ہے؛ اِس لیے روزے کے مُتعلِّق بھی کوئی ایسا لفظ ہرگز نہ کہے، اور اگر تمسخُر وغیرہ نہ کرے تب بھی بغیر عذر افطار کرنے والا فاسِق ہے، حَتیٰ کہ فُقَہا نے تَصرِیح کی ہے کہ: جو شخص رمَضان میں عَلی الاِعلان بغیر عُذر کے کھاوے اُس کو قتل کیاجاوے؛ لیکن قتل پر اگر اِسلامی حکومت نہ ہونے کی وجہ سے قدرت نہ ہو،کہ یہ کام اَمیرُ المُؤمِنِین کا ہے، تو اِس فرض سے کوئی بھی سُبک دَوش نہیں کہ اُس کی اِس ناپاک حرکت پر اظہارِ نفرت کرے، اوراِس سے کم تو ایمان کا کوئی درجہ ہی نہیں کہ اُس کو دل سے بُرا سمجھے۔ حق تَعَالیٰ شَانُہٗ اپنے مُطِیع بندے کے طُفیل مجھے بھی نیک اعمال کی توفیق نصیب فرماویں، کہ سب سے زیادہ کوتاہی کرنے والوں میں ہوں۔ فصلِ اول میں دَس حدیثیں کافی سمجھتا ہوں، کہ ماننے والے کے لیے ایک بھی کافی ہے چہ جائے کہ ﴿تِلْكَ عَشَرَۃٌ کَامِلَۃٌ﴾، اور نہ ماننے والے کے لیے جتنا بھی لکھا جائے بے کار ہے، حق تَعَالیٰ شَانُہٗ سب مسلمانوں کو عَمل کی توفیق نصیب فرماویں۔ فصل ثانی شبِ قَدر کے بیان میں قدر دَانوں: قدر کرنے والا۔ مَرحَمت: عطا۔ رَنج: غم۔ تَلافِی: کمی کو پورا کرنا۔ عَطِیَّہ: انعام۔ مُیسَّر: حاصل۔تَہِیدَستانِ قِسمَت رَاچہ سُود اَز رَہبرِ کامِل ء کہ خِضر اَز آبِ حَیواں تِشنہ مِی آرَد سِکندر را: قِسمت کے مَحروموں کو رہبرِ کامل سے کیا فائدہ ہوتا ہے!اِس لیے کہ خضر ں آبِ حیات کے