فضائل اعمال ۔ یونیکوڈ ۔ غیر موافق للمطبوع |
|
کلمے کا وِرد رکھیں اور نیک اعمال ہوں، اُن کے سب سے زیادہ سعادت مند ہونے کا مطلب یہ ہے کہ: زیادہ نفع حضورﷺ کی شفاعت سے اُن کو پہنچے گا کہ ترقیٔ دَرجات کا سبب بنے گی۔ علامہ عینیؒ نے لکھا ہے کہ: حضورِاقدس ﷺ کی شَفاعت قِیامت کے دن چھ طریقے سےہوگی: اوَّل میدانِ حَشر کی قَید سے خَلاصی کی ہوگی، کہ حشر میں ساری مخلوق طرح طرح کے مَصائب میں مُبتَلا پریشان حال یہ کہتی ہوئی ہوگی کہ: ہم کوجہنَّم ہی میں ڈال دیا جائے؛ مگر اِن مَصائب سے تو خَلاصی ہو، اُس وقت جَلِیلُ القَدر اَنبیا عَلَیْہِمُ السَّلَامُ کی خدمت میں یکے بعد دِیگرے حاضری ہوگی، کہ آپ ہی اللہ کے یہاں سِفارش فرمائیں؛ مگر کسی کو جُرأت نہ ہوگی کہ سفارش فرماسکیں، بِالآخر حضورﷺ شفاعت فرمائیںگے، یہ شفاعت تمام عالَم، تمام مخلوق، جِنَّ واِنس،مُسلِم کافر؛ سب کے حق میں ہوگی، اور سب ہی اِس سے مُنتفِع ہوںگے۔ اَحادیثِ قِیامت میں اِس کا مُفصَّل قِصَّہ مذکور ہے۔ (بخاری،کتاب الرقاق،باب صفۃ الجنۃ والنار،۲؍۹۷۱حدیث:۶۵۶۵) دوسری شفاعت بعض کُفَّارکے حق میں تَخفِیفِ عذاب کی ہوگی، جیسا ابوطالب کے بارے میں صحیح حدیث میں وارد ہوا ہے۔ (مسلم،کتاب الایمان،باب شفاعۃ النبيﷺ لا ٔبي طالب، ۱؍۱۱۵حدیث:۲۰۹) تیسری شفاعت بعض مومنوں کو جہنَّم سے نکالنے کے بارے میں ہوگی جو اُس میں داخل ہوچکے ہیں۔ چوتھی شفاعت بعض مومن جو اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے جہنَّم میں داخل ہونے کے مستحِق ہوچکے ہیں، اُن کی جہنم سے مُعافی اور جہنَّم میں نہ داخل ہونے کے بارے میں ہوگی۔ پانچوِیں شفاعت بعض مومنین کے بغیر حساب کتاب جنت میں داخل ہونے میں ہوگی۔ اور چھٹی شفاعت مؤمنین کے درجات بلند ہونے میں ہوگی۔(عمدۃ القاری،کتاب العلم،باب الحرص علی الحدیث۲؍۱۲۸) (۴) عَن زَیدِ بنِ أَرقَمَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِﷺ: مَن قَالَ لَاإلٰہَ إِلَّااللہُ مُخلِصاً دَخَلَ الجَنَّۃَ، قِیلَ: وَمَا إِخْلَاصُهَا؟ قَالَ: أَن تَحجُزَہٗ عَن مَحَارِمِ اللہِ. (رواہ الطبراني في الأوسط والکبیر) ترجَمہ: حضرت زید بن ارقم ص حضورﷺسے نقل کرتے ہیں: جو شخص اخلاص کے ساتھ لَاإلٰہَ إِلَّا اللہُ کہے وہ جنت میںداخل ہوگا، کسی نے پوچھا کہ: کلمے کے اخلاص کی علامت کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ: حرام کاموں سے اُس کو روک دے۔ قائل: کہنے والا۔تَردُّد: شک۔ سَلب: ختم۔ نوبت: موقع۔ ہَم بستری: صُحبت۔ قُفل: تالا۔ مُتکبِّر:تکبُّر کرنے والا۔ جابِر: ظالم۔ فائدہ: اور یہ ظاہر ہے کہ: جب حرام کاموں سے رُک جائے گا اور لَاإلٰہَ