فضائل اعمال ۔ یونیکوڈ ۔ غیر موافق للمطبوع |
|
ابوداؤد، ص ۸۶) فائدہ: یہ دِین کی طرف طبعی میلان اور رُجحان کااثرتھا، کہ اِس عمرمیں بغیرمسلمان ہوئے قرآن شریف کاحِصَّہ بہت سا یاد کرلیا۔ رہا بچے کی اِمامت کاقِصَّہ، یہ مسئلے کی بحث ہے، جن کے نزدیک جائز ہے اُن کے نزدیک تو اِشکال نہیں، اور جن کے نزدیک جائز نہیں وہ فرماتے ہیں کہ: حضور ﷺ نے اُن ہی لوگوں کو ارشادفرمایاتھا کہ: تم میں جس کوقرآن زیادہ یاد ہو، بچے اُس سے مراد نہیں تھے۔ (۱۵)حضرت ابن عباس صکا اپنے غلام کے پاؤں میں بیڑی ڈالنا حِبْرُالأُمَّۃ: اُمَّت کے بڑے عالم۔ حضرت عبداللہ بن عباس ص کے غلام حضرت عِکرمہ ص مشہور عُلما میں ہیں، کہتے ہیں کہ: میرے آقا حضرت عبداللہ بن عباس صنے قرآن اور حدیث اورشریعت کے اَحکام پڑھانے کے لیے میرے پاؤں میں بیڑی ڈال دی تھی، کہ کہیںآؤںجاؤں نہیں، وہ مجھے قرآن شریف پڑھاتے اور حدیث شریف پڑھاتے۔ (تذکرۃ الحفاظ، ۱؍ ۷۳۔ بخاری۔ ابن سعد) فائدہ: حقیقت میں پڑھنا اِسی صورت سے ہوسکتا ہے، جو لوگ پڑھنے کے زمانے میں سَیر وسفر اور بازار کی تفریح کے شوق میں رہتے ہیں وہ بیکار اپنی عمر ضائع کرتے ہیں۔ اِسی چیز کااثر تھا کہ پھرعِکرمہ غلام، حضرت عکرمہ ص بن گئے، کہ ’’بَحْرُالأُمَّۃ‘‘ اور’’حِبْرُالأُمَّۃ‘‘ کے اَلقاب سے یاد کیے جانے لگے۔ قَتادہ ص کہتے ہیں کہ: تمام تابعین میں زیادہ عالِم چار ہیں، جن میں سے ایک عِکرمہ صہیں۔ (۱۶)حضرت ابن عباس کا بچپن میں حِفظِ قرآن ثمرَہ: نتیجہ۔ خودحضرت عبداللہ بن عباس ص فرماتے ہیں کہ: مجھ سے تفسیر پوچھو، مَیں نے بچپن میں قرآن شریف حِفظ کیا ہے۔ دوسری حدیث میں ہے کہ: مَیں نے دس برس کی عمر میں اخیر کی منزل پڑھ لی تھی۔(بخاری، باب تعلیم الصبیان، ۲؍ ۷۵۳۔فتح۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔) فائدہ:اُس زمانے کاپڑھنا ایسا نہیںتھا جیسا کہ اِس زمانے میں ہم لوگ غیرزبان والوں کا؛ بلکہ جوکچھ پڑھتے تھے وہ مع تفسیر کے پڑھتے تھے، اِسی واسطے حضرت ابن عبا س ص تفسیر کے بہت بڑے امام ہیں، کہ بچپن کایاد کیاہوا بہت محفوظ ہوتا ہے؛ چناںچہ تفسیر کی حدیثیں جتنی حضرت عبداللہ بن عباس ص سے نقل ہیں بہت کم دوسرے حضرات سے اُتنی نقل ہوںگی۔ عبداللہ بن مسعود ص کہتے ہیں کہ: ’’قرآن کے بہترین مُفسِّر ابن عباس ص ہیں‘‘۔ ابوعبدالرحمن کہتے ہیں