فضائل اعمال ۔ یونیکوڈ ۔ غیر موافق للمطبوع |
|
علامہ سخاویؒ نے حضرت ابومسعودص سے بھی حضورﷺ کا یہی ارشاد نقل کیاہے، اور حضرت علی کَرَّمَ اللہُ وَجْهَہٗ کی حدیث سے بھی یہی نقل کیاہے کہ: جوشخص یہ چاہتاہو کہ اُس کا درود بہت بڑے پیمانے سے ناپا جائے جب وہ ہم اہلِ بیت پر درود بھیجے، تویوں پڑھا کرے: ’’اَللّٰہُمَّ اجْعَلْ صَلَوٰتِكَ وَبَرَکاَتِكَ عَلیٰ مُحَمَّدِنِ النَّبِيِّ وَأَزْوَاجِہٖ أُمَّھَاتِ الْمُؤْمِنِیْنَ وَذُرِّیَتِہٖ وَأَہْلِ بَیْتِہٖ، کَمَا صَلَّیْتَ عَلیٰ اٰلِ اِبْرَاہِیْمَ، إِنَّكَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ‘‘ . اور حسن بصریؒ سے یہ نقل کیاہے کہ: جوشخص یہ چاہے کہ حضورِاقدس ﷺ کی حوض سے بھرپور پیالہ پیوے وہ یہ درود پڑھا کرے: ’’اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِہٖ وَأَصْحَابِہٖ وَأَوْلَادِہٖ وَأَزْوَاجِہٖ وَذُرِّیَّتِہٖ وَأَہْلِ بَیْتِہٖ، وَأَصْھَارِہٖ وَأَنْصَارِہٖ وَأَشْیَاعِہٖ وَمُحِبِّیْہِ وَأُمَّتِہٖ وَعَلَیْنَا مَعَهُمْ أَجْمَعِیْنَ، یَاأَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ!‘‘. اِس حدیث کو قاضی عَیاضؒنے بھی ’’شفاء‘‘ میں نقل کیاہے : یَا رَبِّ! صَلِّ وَسَلِّمْ دَائِماً أَبَداً ء عَلیٰ حَبِیْبِكَ خَیْرِ الْخَلْقِ کُلِّہِمٖ (۳) عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ ﷺ:أَکْثِرُوْا مِنَ الصَّلَاۃِ عَلَيَّ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ فَإِنَّہٗ یَوْمٌ مَّشْھُوْدٌ: تَشْھَدُہُ الْمَلٰئِکَۃُ. وَإِنَّ أَحَداً لَّنْ یُّصَلِّيَ عَلَيَّ إِلَّا عُرِضَتْ عَلَيَّ صَلَاتُہٗ حَتّٰی یَفْرُغَ مِنْھَا، قَالَ: قُلْتُ: وَبَعْدَ الْمَوْتِ؟ قَالَ: إِنَّ اللہَ حَرَّمَ عَلَی الْأَرْضِ أَنْ تَأْکُلَ أَجْسَادَ الْأَنْبِیَاءِ عَلَیْہِمُ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ. (رواہ ابن ماجہ باسناد جیّد، کذا في الترغیب. زاد السخاوي في اٰخر الحدیث:’’فَنَبِيُّ اللّٰہِ حَيٌّ یُرْزَقُ‘‘، وبسط في تخریجہ، وأخرج معناہ عن عدۃ من الصحابۃ. وقال القاري: ولہٗ طرق کثیرۃ بالفاظ مختلفۃ) ترجَمہ: حضرت ابوالدرداء ص حضورِاقدس ﷺ کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ: میرے اوپر جمعہ کے دن کثرت سے درود بھیجا کرو؛ اِس لیے کہ یہ ایسا مبارک دن ہے کہ ملائکہ اِس میں حاضر ہوتے ہیں، اور جب کوئی شخص مجھ پر درود بھیجتاہے تو وہ درود اُس کے فارغ ہوتے ہی مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔ مَیں نے عرض کیا: یارسولَ اللہ! آپ کے انتقال کے بعد بھی؟ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا: ہاں! انتقال کے بعد بھی، اللہ جَلَّ شَانُہٗنے زمین پر یہ بات حرام کردی ہے کہ وہ انبیاعَلَیْہِمُ السَّلَامُ کے بدنوں کو کھائے، پس اللہ کانبی زندہ ہوتاہے، رزق دیاجاتا ہے۔ مُتبادِر: جلد ذہن میں آنے والا۔ فائدہ: مُلَّاعلی قاریؒ کہتے ہیں کہ: اللہجَلَّ شَانُہٗ نے انبیاء کے اَجساد کو زمین پر حرام کردیا، پس کوئی فرق نہیں ہے اُن کے لیے دونوں حالتوں: یعنی زندگی اور موت میں۔ اور اِس حدیث پاک میں اِس طرف بھی اشارہ ہے کہ، درود رُوح مبارک اور بدن مبارک دونوں پر پیش ہوتا ہے۔ اور حضورﷺ کا ارشاد کہ: ’’اللہ کا نبی زندہ ہے، رزق دیاجاتاہے‘‘ سے مراد حضورِاقدس ﷺ کی پاک ذات ہوسکتی ہے۔ اور ظاہر یہ ہے کہ، اِس سے ہرنبی مراد ہے؛ اِس لیے کہ