فضائل اعمال ۔ یونیکوڈ ۔ غیر موافق للمطبوع |
|
ایک حدیث میں آیا ہے کہ: لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ حق تَعَالیٰ شَانُہٗکے غُصَّے کو دُور کرتا ہے جب تک کہ دنیا کو دِین پر ترجیح دینے نہ لگیں، اور جب دنیا کو دِین پر ترجیح دینے لگیں اور لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ کہتے رہیں تو حقتَعَالیٰ شَانُہٗ فرماتے ہیں کہ: تم اپنے دعوے میں سچے نہیں ہو۔(کنز العمال۱؍۶۲حدیث:۲۲۱) (۲۰) عَن عَبدِاللہِ بنِ عَمروٍ عَنِ النَّبِيِّﷺ قَالَ: أَفضَلُ الذِّکرِ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ، أَفضَلُ الدُّعَاءِ اَلاِستِغفَارُ، ثُمَّ قَرَأَ: ﴿فَاعْلَمْ أَنَّہٗ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ وَاسْتَغفِرْ لِذَنْبِکَ﴾ اَلاٰیَۃ. (أخرجہ الطبراني، وابن مردویہ، والدیلمي؛ کذا في الدر. وفي الجامع الصغیر بروایۃ الطبراني: ’’مَا مِنَ الذِّکرِ أَفضَلُ مِن لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ ، وَلَا مِنَ الدُّعَاءِ أَفضَلُ مِنَ الاِستِغفَارِ‘‘. ورقم لہ بالحسن) ترجَمہ: حضورِ اقدس ﷺ کا ارشاد ہے کہ: تمام ذکروں میں افضل لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ ہے، اور تمام دُعاؤں میں افضل اِستِغفار ہے؛ پھر اِس کی تائید میں سورۂ محمد کی آیت: ﴿فَاعْلَمْ أَنَّہٗ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ وَاسْتَغفِرْ لِذَنْبِکَ﴾تلاوت فرمائی۔ فائدہ: اِس فَصل کی سب سے پہلی حدیث میں بھی یہ مضمون گزر چکا ہے کہ: لَاإِلٰہَ إِلَّا اللہُ سب اَذکار سے اَفضل ہے، جس کی وجہ صوفِیا نے یہ لکھی ہے کہ: دل کے پاک ہونے میں اِس ذکر کو خاص مُناسَبت ہے، اِس کی برکت سے دل کی ساری ہی گندگیوں سے پاک ہوجاتا ہے، اور جب اِس کے ساتھ اِستِغفار بھی شامل ہوجائے تو پھر کیا ہی کہنا!۔ ایک حدیث میں وارد ہے کہ: حضرت یونس ں کو جب مچھلی نے کھا لیا تھا، تو اُس کے پیٹ میں اُن کی دعا یہ تھی: ﴿لَا إِلٰہَ إِلَّا أَنتَ سُبحَانَکَ، إِنِّي کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِینَ﴾، جو شخص بھی اِن الفاظ سے دعا مانگے گا وہ ضرور قَبول ہوگی۔ (ترمذی،ابواب الدعوات،باب دعوۃ ذی النون،۲؍۱۸۸حدیث:۳۵۰۵) مَضرَّتیں: نقصانات۔ اِس فصل کی سب سے پہلی حدیث میں بھی یہ مضمون گزرا ہے کہ: سب سے افضل اور بہترین ذکر لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ ہے؛ لیکن وہاں سب سے افضل دعا اَلحَمدُ لِلّٰہِارشاد ہوا تھا اور یہاں اِستغفار وارد ہے، اِس قِسم کا اختلاف حالات کے اعتبار سے بھی ہوتا ہے، ایک مُتقی، پرہیزگار ہے، اُس کے لیے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِسب سے افضل ہے، ایک گنہ گار ہے، وہ توبہ اور استغفار کابہت محتاج ہے، اُس کے حق میں اِستغفار سب سے اہم ہے۔ اِس کے عِلاوہ اَفضَلِیَّت بھی مختلف وُجوہ سے ہوتی ہے، مَنافِع کے حاصل کرنے کے واسطے اللہ کی حَمدوثنا سب سے زیادہ نافع ہے، اورمَضرَّتیں اور تنگیاں دُور کرنے کے لیے اِستغفار سب سے زیادہ مُفِید ہے؛ اِن کے عِلاوہ اَور بھی وُجوہ اِس قِسم کے اِختلاف کی ہوتی ہیں۔ (۲۱) عَن أَبِي بَکرٍ الصِّدِّیقِ عَن رَسُولِ اللہِﷺ: عَلَیکُمْ بِلَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ وَالاِستِغفَارَ، فَأَکثِرُوا مِنهُمَا، فَإنَّ إِبلِیسَ قَالَ: أَهلَکتُ النَّاسَ بِالذُّنُوبِ وَأَهلَکُونِي بِلَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ وَالاِستِغفَارَ، فَلَمَّا رَأَیتُ ذٰلِكَ أَهلَکْتُهُمْ بِالأَهوَاءِ وَهُم