فضائل اعمال ۔ یونیکوڈ ۔ غیر موافق للمطبوع |
|
پھر مقابلہ ہوا، وہ عابد پھر اُس کے سینے پر چڑھ گیا، شیطان نے کہا: اچھا! سُن، ایک فیصلے والی بات تیرے نفع کی کہوں؟ اُس نے کہا: کہہ، شیطان نے کہا: تُو غریب ہے، دنیا پر بوجھ بناہوا ہے، تُو اِس کام سے باز آ، مَیں تجھے روزانہ تین دینار (اشرفی)دیا کروںگا جو روزانہ تیرے سِرہانے رکھے ہوئے مِلاکریںگے، تیری بھی ضرورتیں پوری ہوجائیں گی، اپنے اعِزَّہ پر بھی احسان کرسکے گا، فقیروں کی مدد کرسکے گا، اور بہت سے ثواب کے کام کرسکے گا، اِس میںایک ہی ثواب ہوگا اور وہ بھی بے کار، کہ وہ لوگ پھر دوسرا لگالیںگے؛ عابد کی سمجھ میں آگیا، قَبول کرلیا، دو دن تو وہ ملے، تیسرے دن سے نہ دارد؛ عابد کوغُصَّہ آیا اور کُلہاڑی لے کر پھر چلا، راستے میں وہ بوڑھاملا، پوچھا: کہاں جارہا ہے؟ عابد نے بتایا کہ: اُسی درخت کوکاٹنے جارہا ہوں، بوڑھے نے کہا کہ: تُو اُس کونہیں کاٹ سکتا، دونوں میں جھگڑا ہوا، وہ بوڑھا غالب آگیا اور عابد کے سینے پر چڑھ گیا، عابد کو بڑا تعجُّب ہوا، اُس سے پوچھا کہ: یہ کیا بات ہے کہ تُو اِس مرتبہ غالب ہوگیا؟ اُس بوڑھے نے کہا کہ: پہلی مرتبہ تیرا غصہ خالص اللہ کے واسطے تھا؛ اِس لیے اللہ جَلَّ شَانُہٗ نے مجھے مغلوب کردیا تھا، اِس مرتبہ اِس میں دِیناروں کادخل تھا؛ اِس لیے تُومغلوب ہوا۔ (احیاء العلوم، فضیلۃ الاخلاص،۴؍۳۷۷) حق یہ ہے کہ جوکام خالص اللہ کے واسطے کیا جاتا ہے اُس میں بڑی قوَّت ہوتی ہے۔ (۱۱) عَن مُعَاذِ بنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِﷺ: مَا عَمِلَ اٰدَمِيٌّ عَمَلًا أَنجیٰ لَہٗ مِن عَذِابِ القَبرِ مِنْ ذِکرِ اللہِ. (أخرجہ أحمد، کذا في الدر. وإلیٰ أحمد عزاہ في الجامع الصغیر بلفظ: أَنجیٰ لَہٗ مِنْ عَذَابِ اللہِ، ورقم لہ بالصحۃ. وفي مجمع الزوائد: رواہ أحمد ورجالہ رجال الصحیح؛ إلا أن زیاداً لم یدرك معاذاً، ثم ذکرہ بطریق اٰخر، وقال: رواہ الطبراني ورجالہ رجال الصحیح. قلت: وفي المشکاۃ عنہ موقوفاً بلفظ: مَاعَمِلَ العَبدُ عَمَلًا أَنجیٰ لَہٗ مِن عَذَابِ اللہِ مِن ذِکرِ اللہِ. وقال: رواہ مالك والترمذي وابن ماجہ. اھ. قلت: وهکذا رواہ الحاکم، وقال: صحیح الإسناد، وأقرہ علیہ الذهبي؛ وفي المشکاۃ بروایۃ البیهقي في الدعوات عن ابن عمر مرفوعا بمعناہ، قال القاري: رواہ ابن أبي شیبۃ وابن أبي الدنیا، وذکرہ في الجامع الصغیر بروایۃ البیهقي في الشعب، ورقم لہ بالضعف، وزاد في أولہ: لِکُلِّ شَيئٍ صِقَالَۃٌ وَصِقَالَۃُ القُلُوبِ ذِکرُ اللہِ. وفي مجمع الزوائد بروایۃ جابر مرفوعاً نحوہ، وقال: رواہ الطبراني في الصغیر والأوسط، ورجالهما رجال الصحیح. اھ ) ترجَمہ:نبیٔ کریم ﷺ کا ارشاد ہے: اللہ کے ذِکر سے بڑھ کر کسی آدمی کا کوئی فعل عذابِ قبر سے زیادہ نجات دینے والا نہیں ہے۔ سَہَل: آسان۔ غُربت: مُفلِسی۔ وَسیع: کُشادہ۔ مُنتہائے نظر: جہاں تک نظر جائے۔ بھِینچتی: دبانا۔ مُسلَّط: متعیَّن۔ نوچتے: ڈسنا۔ مُہذَّب: تہذیب یافتہ۔ بِالجُملہ: خلاصہ یہ کہ۔ فائدہ: عذابِ قبر کتنی سخت چیز ہے اُس سے وہی لوگ واقف ہیں جن کے سامنے وہ اَحادیث ہیں جو عذابِ قبر کے بارے میں وارد ہوئی ہیں۔ حضرت عثمان ص جب کسی قبرپر تشریف لے جاتے تو اِس قدر روتے کہ ڈاڑھی مبارک تَر ہوجاتی، کسی نے پوچھا کہ: آپ جنت کے، دوزخ کے ذکر سے ایسا نہیں روتے جیسا کہ قبر کے سامنے آجانے سے روتے ہیں، آپ نے ارشاد فرمایا کہ: قبر