فضائل اعمال ۔ یونیکوڈ ۔ غیر موافق للمطبوع |
|
رونے لگے، کہ حضرت ابوبکرص کی حالت دیکھی نہ جاتی تھی۔ اِس کے بعد حضرت ابوبکر صدیق ص نے درخواست کی کہ: ’’یہ میری والدہ ہیں، آپ اِن کے لیے ہدایت کی دعا بھی فرمادیں اور اِن کو اسلام کی تبلیغ بھی فرمائیں‘‘، حضورﷺ نے اوَّل دعا فرمائی، اِس کے بعد اُن کواسلام کی ترغیب دی، وہ بھی اُسی وقت مسلمان ہوگئیں۔ (تاریخ خمیس) فائدہ: عیش وعِشرت، نِشاط وفَرحت کے وقت محبت کے دعوے کرنے والے سینکڑوں ہوتے ہیں، محبت وعشق وہی ہے جو مصیبت اور تکلیف کے وقت بھی باقی رہے۔ (۲)حضرت عمر کاحضورﷺکے وِصال پر رنج ضربُ المَثل: کہاوَت کی طرح مشہور۔ شُہرۂ آفاق: دنیا بھر میں مشہور۔ اِخفا گوارا: پوشیدہ رکھنا پسند۔ تحمُّل: برداشت۔ گُم صُم: خاموش۔ دَم: ہمت۔ پَرستِش: عبادت۔ نِرے: صرف۔ حق شناس: سچائی کوپہچاننے والے۔ اِستِقلال: جمے رہنا۔ تحمُّل: برداشت۔ حضرت عمرص باوجود اپنی اُس ضربُ المَثل قوت، شُجاعت، دِلیری اور بہادری کے جو آج ساڑھے تیرہ سو برس کے بعد بھی شُہرۂ آفاق ہے، اور باوجودیکہ اِسلام کا ظُہور حضرت عمرص کے اسلام لانے سے ہی ہوا، کہ اِسلام لانے کے بعد اپنے اسلام کا اِخفا گوارا نہ ہوا، حضورﷺکے ساتھ محبت کا ایک ادنیٰ سا کَرشمہ یہ ہے کہ، اپنی اِس بہادری کے باوجود حضورِ اقدس ﷺکے وِصال کی حالت کاتحمُّل نہ فرماسکے، سخت حیرانی اور پریشانی کی حالت میں تلوار ہاتھ میں لے کر کھڑے ہوگئے، کہ جو شخص یہ کہے گا کہ: ’’حضورﷺ کا وِصال ہوگیا ہے تو اُس کی گردن اُڑا دُوںگا، حضورِ اقدس ﷺتو اپنے رب کے پاس تشریف لے گئے ہیں جیسا کہ حضرت موسیٰ -عَلیٰ نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ- طُور پر تشریف لے گئے تھے، عنقریب حضورﷺ واپس تشریف لائیںگے اور اُن لوگوں کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیںگے جو حضورﷺ کے اِنتقال کی جھوٹی خبر اُڑا رہے ہیں‘‘۔ حضرت عثمان صبالکل گُم صُم تھے کہ دوسرے دن تک بالکل آواز نہیں نکلی، چلتے پھرتے تھے؛ مگر بولا نہیں جاتا تھا۔ حضرت علی کَرَّمَ اللہُ وَجْہَہٗ چپ چاپ بیٹھے رہ گئے، کہ حرکت بھی بدن کو نہ ہوتی تھی۔ صرف ایک حضرت ابوبکر ص کا دَم تھاکہ اُس وقت کے پہاڑ جیسے وقت کو برداشت کیا، اور اپنی اُس محبت کے باوجود جو پہلے قِصَّے میں گزری، اُس وقت نہایت سکون سے تشریف لاکر اوَّل حضورِ اقدس ﷺکی پیشانی مبارک کو بوسہ دیا، اور باہر تشریف لاکر حضرت عمرص کو ارشاد فرمایا کہ: بیٹھ جاؤ، اِس کے بعد خطبہ پڑھا جس کاحاصل یہ تھا کہ: جوشخص محمد ﷺکی پَرستِش کرتا ہو