فضائل اعمال ۔ یونیکوڈ ۔ غیر موافق للمطبوع |
|
۱؍ پر آئے گی۔ یہاں ایک اشکال پیش آتاہے جس کو علامہ رازیؒ نے ’’تفسیر کبیر‘‘ میں لکھاہے کہ: جب اللہ جَلَّ شَانُہٗ اور اُس کے ملائکہ حضورﷺ پر درود بھیجتے ہیں تو پھر ہمارے درود کی کیا ضرورت رہی؟ اِس کا جواب یہ ہے کہ، ہمارا حضورﷺ پر درود حضورﷺ کی احتیاج کی وجہ سے نہیں، اگر ایساہوتا تو اللہ تعالیٰ کے درود کے بعد فرشتوں کے درود کی بھی ضرورت نہ رہتی؛ بلکہ ہمارا درود حضورِاقدس ﷺ کی اِظہارِ عظمت کے واسطے ہے، جیساکہ اللہجَلَّ شَانُہٗنے اپنے پاک ذکر کا بندوں کو حکم کیا، حالاںکہ اللہ جَلَّ شَانُہٗکو اُس کے پاک ذکر کی بالکل ضرورت نہیں۔ حافظ ابن حجرؒ لکھتے ہیں کہ: مجھ سے بعض لوگوں نے یہ اشکال کیاکہ، آیتِ شریفہ میں صَلاۃ کی نسبت تو اللہ تعالیٰ کی طرف کی گئی ہے سلام کی نہیں کی گئی؟ مَیںنے اِس کی وجہ بتائی کہ، شاید اِس وجہ سے کہ سلام دومعنیٰ میں مُستَعمل ہوتاہے: ایک: دعا میں، دوسرے: اِنقیاد واتِّباع میں۔ مؤمنین کے حق میں دونوں معنیٰ صحیح ہوسکتے تھے؛ اِس لیے اُن کو اِس کا حکم کیاگیا، اور اللہ اور فرشتوں کے لحاظ سے تابع داری کے معنیٰ صحیح نہیںہوسکتے تھے؛ اِس لیے اُس کی نسبت نہیں کی گئی۔ اِس آیت شریفہ کے مُتعلِّق علامہ سخاویؒ نے ایک بہت ہی عبرت ناک قصہ لکھاہے: وہ احمد یمانیؒ سے نقل کرتے ہیںکہ، مَیں ’’صنعاء‘‘ میں تھا، مَیںنے دیکھاکہ ایک شخص کے گِرد بڑا مجمع ہورہاہے، مَیں نے پوچھا: یہ کیا بات ہے؟ لوگوں نے بتایا: یہ شخص بڑی اچھی آواز سے قرآن پڑھنے والاتھا، قرآن پڑھتے ہوئے جب اِس آیت پر پہنچا تو یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِيِّ کے بہ جائے یُصَلُّوْنَ عَلیٰ عَلِيِّ النَّبِيِّ پڑھ دیا، جس کا ترجَمہ یہ ہوا کہ: اللہ اور اُس کے فرشتے حضرت علیص پر درود بھیجتے ہیں جو نبی ہیں۔ (غالباً پڑھنے والا رافضی ہوگا)، اِس کے پڑھتے ہی گونگا ہوگیا، بَرص اور جُذام یعنی کوڑھ کی بیماری میں مبتلاہوگیا، اور اندھااور اپاہج ہوگیا۔ بڑی عبرت کا مقام ہے، اللہ ہی محفوظ رکھے اپنی پاک بارگاہ میں اور اپنے پاک کلام میں اور پاک رسولوں کی شان میں بے ادبی سے۔ ہم لوگ اپنی جَہالت اور لاپروائی سے اِس کی بالکل پرواہ نہیں کرتے کہ، ہماری زبان سے کیا نکل رہاہے؟ اللہ تعالیٰ ہی اپنی پکڑ سے محفوظ رکھے۔ (۲) قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ وَسَلَامٌ عَلیٰ عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی. [۲؍۱] ترجَمہ: آپ کہیے کہ: تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے سزاوار ہیں، اور اُس کے اُن بندوں پر سلام ہو جس کو اُس نے منتخب فرمایاہے۔ (بیان القرآن) فائدہ: عُلَمانے لکھاہے کہ: یہ آیتِ شریفہ اگلے مضمون کے لیے بہ طورِ خطبہ کے ارشاد ہے، اِس آیتِ شریفہ میںحضورِاقدس ﷺ کو اللہ کی تعریف اور