فضائل اعمال ۔ یونیکوڈ ۔ غیر موافق للمطبوع |
|
کے کھُلے دشمن ہیں، اور ہر طرح سے اُس کو وَحشت میں ڈالتے رہتے ہیں، اور ہر طرف سے اُس کو گھیرے رہتے ہیں، جس شخص کا یہ حال ہو کہ اُس کے دشمن ہر وقت اُس کا مُحاصَرہ کیے رہتے ہیں اُس کا جو حال ہوگا ظاہر ہے، اور دشمن بھی ایسے کہ ہر ایک اُن میں سے یہ چاہے کہ جو تکلیف بھی پہنچا سکو پہنچاؤ، اِن لشکروں کو ہٹانے والی چیز ذکر کے سِوا کوئی نہیں ہے۔(الوابل الصیب،ص:۵۲ تا ص:۱۲۰ ) بہت سی اَحادیث میں بہت سی دعائیں آئی ہیں جن کے پڑھنے سے شیطان قریب بھی نہیں آتا، اور سوتے وقت پڑھنے سے رات بھر حفاظت رہتی ہے۔حافظ ابن قَیِّمؒ نے بھی ایسی دعائیں مُتعدِّد ذکر کی ہیں، اِن کے عِلاوہ مُصنِّف نے چھ نمبروں میںاَنواعِ ذکر کاتَفاضُل اور ذکر کی بعض کُلی فضیلتیں ذکر کی ہیں،اور اِس کے بعد پَچھتَّر (۷۵) فصلیں خُصوصی دعاؤں میں -جو خاص خاص اَوقات میں وارد ہوئی ہیں- ذکر کی ہیں، جن کو اِختِصارکی وجہ سے چھوڑ دیا گیا ہے، کہ توفیق والے کے لیے جو ذکر کیا گیا ہے یہ بھی کافی سے زیادہ ہے، اور جس کو توفیق نہیں ہے اُس کے لیے ہزارہا فضائل بھی بے کار ہیں۔ وَمَاتَوْفِیقِيْ إِلَّا بِاللّٰہِ، عَلَیہِ تَوَکَّلْتُ وَإِلَیہِ أُنِیبُ. بابِ دوم کلمۂ طیبہ بَعثت: بھیجنا۔ قَرینِ قِیاس: عقل کے مطابق۔ مُنقَسِم: تقسیم۔ تغیُّر: تبدیلی۔ کلمۂ طیبہ -جس کو ’’کلمۂ توحید‘‘ بھی کہا جاتا ہے- جس کثرت سے قرآنِ پاک اور حدیث شریف میں ذکر کیا گیا ہے شاید ہی اِس کثرت سے کوئی دوسری چیز ذکر کی گئی ہو، اور جب کہ اصل مقصود تمام شرائع اور تمام اَنبیا کی بَعثت سے توحید ہی ہے تو پھر جتنی کثرت سے اُس کا بیان ہو وہ قَرینِ قِیاس ہے۔ کلامِ پاک میں مختلف عنوانات اور مختلف ناموں سے اِس پاک کلمہ کو ذکر کیا گیا ہے، چناںچہ ’’کلمۂ طیبہ، قولِ ثابت، کلمۂ تقویٰ، مَقَالِیدُ السَّمٰوَاتِ وَالأَرضِ، آسمانوں اور زمینوں کی کنجیاں‘‘؛ وغیرہ الفاظ سے ذکر کیاگیا ہے، جیسا کہ آئندہ آیات میں آرہا ہے۔ امام غزالیؒ نے اِحیاء میں نقل کیا ہے کہ: یہ کلمۂ توحید ہے، کلمۂ اخلاص ہے، کلمۂ تقویٰ ہے، کلمۂ طیبہ ہے، عُروَۃُ الوُثقیٰ ہے، دَعوَۃُ الحَقِّ ہے،ثَمنُ الجَنَّۃ ہے۔(اِحیاء العلوم۱؍۲۹۸) اور چوںکہ قرآنِ پاک میں مختلف عنوانات سے اِس کو ذکر فرمایا گیا؛ اِس لیے اِس باب کو تین فَصلوں پرمُنقَسِم کیا گیا: پہلی فصل میں اُن آیات کاذکر ہے جن میں کلمۂ طیبہ مراد ہے اورکلمۂ طیبہ کا لفظ نہیں ہے؛ اِس لیے اُن آیات کی مختصر تفسیر حضرات صحابۂ کرام ث اور خود سَیِّدُ البَشر -عَلَیہِ أَفضَلُ الصَّلَوَاتِ