فضائل اعمال ۔ یونیکوڈ ۔ غیر موافق للمطبوع |
|
ہوگا: ’’محمد! سر اُٹھاؤ اور کہو، تمھاری بات سُنی جائے گی، سفارش کرو قبول کی جائے گی، مانگو تمھارا سوال پورا کیاجائے گا‘‘، حضورِاقدس ﷺ فرماتے ہیں: اِس پر مَیں سجدے سے سَر اُٹھاؤںگا، پھر اپنے رب کی وہ حمد وثنا کروںگا جو اُس وقت میرا رب مجھے اِلہام کرے گا،پھر مَیں اُمَّت کے لیے سفارش کروںگا۔ بہت لمبی حدیث سفارش کی ہے، جو ’’مشکوٰۃ‘‘ میںبھی مذکورہے: ہاں ہاں اجازت ہے تجھے ء آ، آج عزت ہے تجھے زیبا شفاعت ہے تجھے ء بے شک یہ ہے حصہ ترا یہاں ایک بات قابل لحاظ ہے کہ، اوپر کی دعا میں ’’اَلْوَسِیْلَۃَ وَالْفَضِیْلَۃَ‘‘ کے بعد ’’وَالدَّرَجَۃَ اَلرَّفِیْعَۃَ‘‘ کا لفظ بھی مشہور ہے، محدِّثین فرماتے ہیںکہ: یہ لفظ اِس حدیث میںثابت نہیں، البتہ بعض روایات میں -جیساکہ ’’حِصن حَصِین‘‘ میں بھی ہے- اِس کے اخیر میں ’’إِنَّكَ لَاتُخْلِفُ الْمِیْعَادَ‘‘ کا اِضافہ ہے۔ یَا رَبِّ صَلِّ وَسَلِّمْ دَائِماً أَبَداً ء عَلیٰ حَبِیْبِكَ خَیْرِ الْخَلْقِ کُلِّہِمٖ (۸) عَنْ أَبِي حُمَیْدٍ أَوْ أَبِي أُسَیْدِ السَّاعِدِيْ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ ﷺ:إِذَا دَخَلَ أَحَدُکُمْ فِي الْمَسْجِدِ فَلْیُسَلِّمْ عَلَی النَّبِيِّﷺ، ثُمَّ لْیَقُلْ: ’’اَللّٰہُمَّ افْتَحْ لِيْ أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ‘‘، وَإِذَا خَرَجَ مِنَ الْمَسْجِدِ فَلْیُسَلِّمْ عَلَی النَّبِيِّﷺ، ثُمَّ لْیَقُلْ: ’’اَللّٰہُمَّ افْتَحْ لِيْ أَبْوَابَ فَضْلِكَ‘‘. (أخرجہ أبوعوانۃ في صحیحہ، وأبوداود والنسائي، وابن خزیمۃ وابن حبان في صحیحهما؛ کذا في البدیع) ترجَمہ: حضورِاقدس ﷺ کا ارشاد ہے کہ: جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہوا کرے تو نبیٔ کریم ﷺ پر سلام بھیجاکرے، پھر یوں کہاکرے: ’’اَللّٰہُمَّ افْتَحْ لِيْ أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ‘‘ اے میرے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے، اور جب مسجد سے نکلاکرے تب بھی نبیٔ کریم ﷺ پر سلام بھیجا کرے، اور یوں کہاکرے: ’’اَللّٰہُمَّ افْتَحْ لِيْ أَبْوَابَ فَضْلِكَ‘‘ اے اللہ! میرے لیے اپنے فضل (یعنی روزے) کے دروازے کھول دے۔ فائدہ: مسجد میںجانے کے وقت رحمت کے دروازے کھلنے کی وجہ یہ ہے کہ، جو مسجد میں جاتا ہے وہ اللہ کی عبادت میںمشغول ہونے کے لیے جاتاہے، وہ اللہ کی رحمت کا زیادہ محتاج ہے کہ وہ اپنی رحمت سے عبادت کی توفیق عطا فرمائے، پھر اُس کو قبول فرمائے۔ ’’مظاہر حق‘‘ میں لکھاہے: دروازے رحمت