فضائل اعمال ۔ یونیکوڈ ۔ غیر موافق للمطبوع |
|
کیا طاقت تھی کہ سیِّدُالانبیا کی بارگاہ میں اُن کے رُتبے کے لائق تحفہ پیش کرسکتا۔ حضرت شاہ عبدالقادر صاحب نَوَّرَ اللہُ مَرْقَدَہٗ لکھتے ہیں: اللہ سے رحمت مانگنی اپنے پیغمبر پر اور اُن کے ساتھ اُن کے گھرانے پر بڑی قبولیت رکھتی ہے، اُن پر اُن کے لائق رحمت اُترتی ہے، اور ایک دفعہ مانگنے سے دس رحمتیں اُترتی ہیں مانگنے والے پر، اب جس کا جتنا بھی جی چاہے اُتنا حاصل کرلے۔ مختصراً یہ حدیث جس کی طرف شاہ صاحبؒ نے اشارہ فرمایاعن قریب ۳؍ پر آرہی ہے۔ اِس مضمون سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ، بعض جاہلوں کا یہ اعتراض کہ آیتِ شریفہ میں مسلمانوں کو حضورﷺ پر صَلاۃ بھیجنے کاحکم ہے، اور اِس پر مسلمانوں کا اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ:اے اللہ! تُو درود بھیج محمد ﷺپر،مُضحکہ خَیزہے، یعنی جس چیزکا حکم دیاتھا اللہ نے بندوں کو، وہی چیز اللہتَعَالیٰ شَانُہٗکی طرف لوٹادی بندوں نے، چوںکہ اوَّل تو خود حضورِاقدس ﷺ نے آیتِ شریفہ کے نازل ہونے پر جب صحابہث نے اِس کی تعمیل کی صورت دریافت کی، تو حضورِاقدس ﷺ نے یہی تعلیم فرمایا، جیساکہ اوپر گذرا۔ نیز جیساکہ فصل ثانی کی حدیث ۱؍ پر مفصَّل آرہا ہے۔ دوسرا اِس وجہ سے کہ، ہمارا یہ درخواست کرنا اللہ جَلَّ شَانُہٗسے کہ:تُو اپنی رحمتِ خاص نازل کر، یہ اِس سے بہت ہی زیادہ اونچاہے کہ ہم اپنی طرف سے کوئی ہدیہ حضورﷺ کی خدمت میں بھیجیں۔ علامہ سخاویؒ ’’قولِ بدیع‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں: فائدۂ مُہمَّہ: امیر مصطفی ترکمانی حنفی کی کتاب میں لکھاہے کہ: اگر یہ کہاجائے کہ: اِس میں کیا حکمت ہے کہ اللہ نے ہمیں درود کا حکم فرمایاہے، اور ہم یوں کہہ کر کہ:اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ خود اللہ جَلَّ شَانُہٗسے اُلٹا سوال کریں کہ وہ درود بھیجے، یعنی نماز میں ہم اُصَلِّيَ عَلیٰ مُحَمَّدٍ کی جگہ اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ پڑھیں؟اِس کا جواب یہ ہے کہ، حضورِاقدس ﷺ کی پاک ذات میں کوئی عیب نہیں اور ہم سراپا عُیوب ونَقائص ہیں، پس جس شخص میں بہت عیب ہوں وہ ایسے شخص کی کیا ثناء کرے جو پاک ہے؛ اِس لیے ہم اللہ ہی سے درخواست کرتے ہیں کہ، وہی حضورﷺ پر بھیجے؛ تاکہ ربِّ طاہر کی طرف سے نبیٔ طاہر پر صَلاۃ ہو۔ ایسے ہی علامہ نیشاپوریؒ سے بھی نقل کیاہے کہ: اُن کی کتاب ’’لطائف وحِکم‘‘ میںلکھاہے کہ: آدمی کو نماز میںصَلَّیْتُ عَلیٰ مُحَمَّدٍ نہ پڑھنا چاہیے، اِس واسطے کہ بندے کا مرتبہ اِس سے قاصر ہے؛ اِس لیے اپنے رب ہی سے سوال