فضائل اعمال ۔ یونیکوڈ ۔ غیر موافق للمطبوع |
|
کرے کہ وہ حضورﷺ پر صَلاۃ بھیجے، تو اِس صورت میں رحمت بھیجنے والا تو حقیقت میں اللہجَلَّ شَانُہٗہی ہے، اور ہماری طرف اِس کی نسبت مجازاً بہ حیثیت دعا کے ہے۔ ابن ابی حجلہؒ نے بھی اِسی قِسم کی بات فرمائی ہے، وہ کہتے ہیں کہ: جب اللہجَلَّ شَانُہٗنے ہمیں درود کا حکم فرمایا اور ہمارا درود حق واجب تک نہیں پہنچ سکتاتھا؛ اِس لیے ہم نے اللہجَلَّ شَانُہٗ ہی سے درخواست کی، کہ وہی زیادہ واقف ہے اِس بات سے کہ حضورﷺ کے درجے کے موافق کیا چیز ہے؟ یہ ایساہی ہے جیسادوسری جگہ لَااُحْصِيْ ثَنَاءً عَلَیْكَ، أَنْتَ کَمَا أَثْنَیْتَ عَلیٰ نَفْسِكَ حضورﷺ کا ارشادہے، کہ: یا اللہ! مَیں آپ کی تعریف کرنے سے قاصر ہوں، آپ ایسے ہی ہیں جیسا کہ آپ نے اپنی خود ثنافرمائی ہے۔ علامہ سخاویؒ فرماتے ہیں کہ: جب یہ بات معلوم ہوگئی تو جس طرح حضورﷺنے تلقین فرمایا ہے اُسی طرح تیرا درود ہوناچاہیے، کہ اُسی سے تیرا مرتبہ بلند ہوگا۔ اور نہایت کثرت سے درود شریف پڑھنا چاہیے، اور اِس کا بہت اہتمام اور اِس پر مُداوَمت چاہیے؛ اِس لیے کہ کثرتِ درود محبت کی علامات میں سے ہے، ’’فَمَنْ أَحَبَّ شَیْئًا أَکْثَرَ مِنْ ذِکْرِہٖ‘‘ : جس کو کسی سے محبت ہوتی ہے اُس کا ذکر بہت کثرت سے کیاکرتاہے۔ علامہ سخاویؒ نے امام زین العابدینؒ سے نقل کیاہے کہ: حضورِاقدس ﷺ پر کثرت سے درود بھیجنا اہلِ سنت ہونے کی علامت ہے (یعنی سُنِّی ہونے کی)۔ علامہ زَرقانیؒ ’’شرح مَواہب‘‘ میں نقل کرتے ہیںکہ: مقصود درود شریف سے اللہتَعَالیٰ شَانُہٗکی بارگاہ میں اُس کے اِمتثالِ حکم سے تقرُّب حاصل کرناہے، اور حضورِاقدس ﷺ کے حقوق جو ہم پر ہیں اُس میں سے کچھ کی ادائیگی ہے۔ حافظ عِزُّالدین بن عبدالسلامؒ کہتے ہیںکہ: ہمارا درود حضورﷺ کے لیے سفارش نہیں ہے؛ اِس لیے کہ ہم جیسا حضورﷺ کے لیے سفارش کیا کرسکتاہے!؛ لیکن بات یہ ہے کہ، اللہجَلَّ شَانُہٗنے ہمیں مُحسِن کے اِحسان کے بدلہ دینے کا حکم دیا ہے، اور حضورﷺ سے بڑھ کر کوئی محسنِ اعظم نہیں، ہم چوںکہ حضورﷺ کے احسانات کے بدلے سے عاجز تھے، اللہ جَلَّ شَانُہٗنے ہمارا عِجز دیکھ کر ہم کو اُس کی مُکافات کا طریقہ بتایاکہ درود پڑھاجائے، اور چوںکہ ہم اِس سے بھی عاجز تھے؛ اِس لیے ہم نے اللہجَلَّ شَانُہٗسے درخواست کی کہ: تُو اپنی شان کے موافق مُکافات فرما۔ چوںکہ قرآن پاک کی آیتِ بالا میں درود شریف کا حکم ہے؛ اِس لیے عُلَما نے درود شریف پڑھنے کو واجب لکھاہے، جس کی تفصیل چوتھی فصل میں فائدہ