فضائل اعمال ۔ یونیکوڈ ۔ غیر موافق للمطبوع |
|
بعض عُلَما نے لکھاہے کہ: صلاۃ علی النبی کا مطلب نبی کی ثنا وتعظیم رحمت وعُطوفت کے ساتھ ہے، پھر جس کی طرف یہ صلاۃ منسوب ہوگی اُسی شان ومرتبہ کے لائق ثناوتعظیم مراد لی جائے گی، جیساکہ کہتے ہیں کہ: باپ بیٹے پر، بیٹا باپ پر، بھائی بھائی پر مہربان ہے، تو ظاہر ہے کہ جس طرح کی مہربانی باپ کی بیٹے پر ہے اُس نوع کی بیٹے کی باپ پر نہیں، اور بھائی کی بھائی پر دونوں سے جُداہے، اِسی طرح یہاں بھی اللہ جَلَّ شَانُہٗ بھی نبیٔ کریم ﷺ پر صَلاۃ بھیجتاہے، یعنی رحمت وشفقَت کے ساتھ آپ کی ثنا واعزاز واکرام کرتاہے۔ اور فرشتے بھی بھیجتے ہیں؛ مگر ہرایک کی صَلاۃ اور رحمت وتکریم اپنی شان ومرتبے کے موافق ہوگی۔ آگے مؤمنین کو حکم ہے کہ تم بھی صَلاۃ ورحمت بھیجو۔ امام بخاریؒ نے ابوالعالیہ سے نقل کیاہے کہ، اللہ کے درود کا مطلب اُس کا آپ کی تعریف کرنا ہے فرشتوں کے سامنے، اور فرشتوں کا درود اُن کا دُعا کرنا ہے۔ حضرت ابن عباس صسے یُصَلُّوْنَ کی تفسیر یُبَرِّکُوْنَ نقل کی گئی ہے، یعنی برکت کی دعاکرتے ہیں۔ حافظ ابن حجرؒ کہتے ہیں: یہ قول ابوالعالیہ کے موافق ہے؛ البتہ اُس سے خاص ہے۔ حافظؒ نے دوسری جگہ صَلاۃ کے کئی معنیٰ لکھ کر لکھاہے کہ: ابوالعالیہ کا قول میرے نزدیک زیادہ اَولیٰ ہے، کہ اللہ کی صَلاۃ سے مراد اللہ کی تعریف ہے حضورﷺپر، اور ملائکہ وغیرہ کی صَلاۃ اُس کی اللہ سے طلب ہے، اور طلب سے مراد زیادتی کی طلب ہے نہ کہ اصل کی طلب۔ حدیث میں ہے کہ: جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہث نے عرض کیا: یا رسولَ اللہ! سلام کا طریقہ تو ہمیں معلوم ہوچکا، یعنی التحیات میں جو پڑھا جاتاہے: اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ أَ یُّھَا النَّبِيُّ! وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرکاَتُہٗ. صَلاۃ کا طریقہ بھی ارشاد فرمادیجیے، آپ ﷺنے یہ درود شریف ارشاد فرمایا: ’’اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّعَلیٰ اٰلِ مُحَمَّدٍ‘‘الخ. فصلِ ثانی کی حدیث۱؍ پر یہ درود مُفصَّل آرہا ہے، یعنی اللہ جَلَّ شَانُہٗ نے مؤمنین کو حکم دیاتھا کہ، تم بھی نبی پر صَلاۃ بھیجو، نبی ﷺنے اُس کا طریقہ بتادیا کہ، تمھارا بھیجنا یہی ہے کہ تم اللہ ہی سے درخواست کروکہ وہ اپنی بیش ازبیش رحمتیں ابدالآباد تک نبی پر نازل فرماتارہے؛ کیوںکہ اُس کی رحمتوں کی کوئی حد ونہایت نہیں۔ یہ بھی اللہ کی رحمت ہے کہ اِس درخواست پر جومزید رحمتیں نازل فرمائے وہ ہم عاجز وناچیز بندوں کی طرف منسوب کردی جائیں، گویا ہم نے بھی بھیجی ہیں، حالاںکہ ہر حال میں رحمت بھیجنے والا وہی اکیلاہے، کسی بندے کی