فضائل اعمال ۔ یونیکوڈ ۔ غیر موافق للمطبوع |
|
تیسری یہ کہ، تعیین کی صورت میں اگر کسی شخص سے وہ رات اِتِّفاقاً چھوٹ جاتی تو آئندہ راتوں میں اَفسُردگی وغیرہ کی وجہ سے پھر کسی رات کابھی جاگنا نصیب نہ ہوتا، اور اب رمَضان کی ایک دو رات تو کم از کم ہر شخص کو مُیسَّر ہوہی جاتی ہیں۔ چوتھی یہ کہ، جتنی راتیں طلب میں خرچ ہوتی ہیں اُن سب کامُستَقِل ثواب علاحدہ ملے گا۔ پانچویں یہ کہ، رمَضان کی عبادت میں حق تَعَالیٰ شَانُہٗ ملائکہ پر تفاخُر فرماتے ہیں -جیسا کہ پہلی روایات میں معلوم ہوچکا-، اِس صورت میں تفاخُر کا زیادہ موقع ہے، کہ بندے باوجود معلوم نہ ہونے کے مَحض اِحتمال اور خَیال پر رات رات بھر جاگتے ہیں اور عبادت میں مشغول رہتے ہیں، کہ جب اِحتمال پر اِس قدر کوشش کررہے ہیںتو اگر بتلا دیا جاتا کہ یہی رات شبِ قدر ہے تو پھر اُن کی کوششوں کا کیاحال ہوتا! ۔ اِن کے عِلاوہ اَور بھی مَصالِح ہوسکتی ہیں، ایسے ہی اُمور کی وجہ سے عادۃُ اللہ یہ جاری ہے کہ، اِس نَوع کی اَہم چیزوں کو مََخفِی فرمادیتے ہیں؛ چناںچہ اسمِ اعظم کومَخفی فرمادیا، اِسی طرح جمعہ کے دِن ایک وَقتِ خاص مَقبُولِیتِ دُعا کا ہے، اُس کو بھی مَخفی فرمادیا، ایسے ہی اَور بہت سی چیزیں اِس میں شامل ہیں، یہ بھی ممکن ہے کہ جھگڑے کی وجہ سے اُس خاص رمَضانُ المبارک میں تعیین بھُلا دی گئی ہو، اور اِس کے بعد دِیگرمَصالِحِ مَذکورَہ کی وجہ سے ہمیشہ کے لیے تعیین ہٹادی ہو۔ تیسری بات جو اِس حدیثِ پاک میں وارِد ہے وہ شبِ قدر کی تلاش کے لیے تین راتیں ارشاد فرمائی ہیں: نوِیں، ساتوِیں، پانچوِیں؛ دوسری روایت کے ملانے سے اِتنا تو مُحقَّق ہے کہ یہ تینوں راتیں اَخیر عَشرے کی ہیں؛ لیکن اِس کے بعد پھر چند اَحتمال ہیں کہ: اَخیر عَشرے میں اگر اوَّل سے شمار کیاجاوے تو حدیث کامَحمِل ۲۹،۲۷، ۲۵؛ رات ہوتی ہے، اور اگر اخیر سے شمار کیا جائے جیسا کہ بعض اَلفاظ سے مُترشِّح ہے تو پھر ۲۹؍ کے چاند کی صورت میں ۲۱، ۲۳، ۲۵؛اور ۳۰؍ کے چاند کی صورت میں ۲۲، ۲۴، ۲۶ ہے۔ اِس کے عِلاوہ بھی تعیین میں رِوایات بہت مختلف ہیں، اور اِسی وجہ سے عُلما کے درمیان میں اِس کے بارے میں بہت کچھ اختلاف ہے، جیسا کہ پہلے ذکر ہوا کہ پچاس کے قریب عُلَما کے اَقوال ہیں۔ خَفا: ناراض۔ دَائِر: گھومنے والا۔ اَقرب: غالب گمان۔ اِنتِشار: پھیلنا۔ سَعِی:کوشش۔ جُستجو: تلاش۔خدانہ خواستہ: اللہ نہ کرے۔ غنیمتِ بارِدہ: قابلِ قدر۔ تائیدِ اَیزدی: اللہ تعالیٰ کی مدد۔ ہَیچ: کچھ نہیں۔ دَرپے:چاہنے والا،پیچھے۔ بہ بیں تفاوُتِ رہ اَز کُجا است تا بہ کُجا: دیکھ کہ راستے کا فرق کہاں سے کہاں تک ہے؟۔ رِوایات کے بہ کثرت اختلاف کی وجہ مُحقِّقِین کے نزدیک یہ ہے کہ، یہ