فضائل اعمال ۔ یونیکوڈ ۔ غیر موافق للمطبوع |
|
ایک اَور روایت میں آیا ہے کہ: جو شخص حلال کمائی سے رَمَضان میں روزہ افطار کرائے اُس پر رمَضان کی راتوں میں فرشتے رحمت بھیجتے ہیں، اور شبِ قدر میں جِبرئیل ں اُس سے مُصافَحہ کرتے ہیں، اور جس سے حضرت جبرئیل ں مصافحہ کرتے ہیں (اُس کی علامت یہ ہے کہ) اُس کے دِل میں رِقَّت پیدا ہوتی ہے، اور آنکھوں سے آنسو بہتے ہیں۔ حَمَّادبن سَلمہؒ -ایک مشہور مُحدِّث ہیں- روزانہ پچاس آدمیوں کے روزہ افطار کرانے کا اہتمام کرتے تھے۔(روحُ البیان) اِضافہ:زیادتی۔ مُعاوَضہ: بدلہ۔ خَلاصی:چھُٹکارا۔ مضمونِ بالا: اوپر والا مضمون۔ اَنبار: ڈھیر۔ تَخفیف: آسانی۔ دِقَّت: پریشانی۔ مُضایَقہ:حرج۔ ہَنگامی: وَقتی۔ روزہ خور: بے روزہ۔ تَعمِیل: عمل کرنا۔ تَساہُل: سُستی۔ اَفضلُ الذِّکر:سب ذکر سے افضل۔ کَبائِر: بڑے گناہ۔ مَرحَمَت: عطا۔بے پایاں: بے انتہا۔ کِیمیا: رانگ کو چاندی یا تانبے کو سونا بنانا۔ عَنقا: نادِر، غائب۔ اِختصاراً : مختصر ہونا۔ افطار کی فضیلت ارشاد فرمانے کے بعد فرمایا ہے کہ: اِس ماہ کا اوَّل حصَّہ رحمت ہے، یعنی: حق تَعَالیٰ شَانُہٗ کا اِنعام مُتوجَّہ ہوتاہے، اور یہ رحمتِ عامَّہ سب مسلمانوں کے لیے ہوتی ہے، اِس کے بعد جولوگ اِس کا شکر اداکرتے ہیں اُن کے لیے اِس رحمت میں اِضافہ ہوتاہے: ﴿لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَأَزِیْدَنَّکُمْ﴾، اور اِس کے درمیانی حصے سے مغفرت شروع ہوجاتی ہے؛ اِس لیے کہ روزوں کا کچھ حصہ گزر چکاہے، اُس کا مُعاوَضہ اور اِکرام مغفرت کے ساتھ شروع ہوجاتا ہے، اور آخری حصَّہ تو بالکل آگ سے خَلاصی ہے ہی۔اَوربھی بہت سی رِوایات میںختمِ رمَضان میں آگ سے خَلاصِی کی بشارتیں وَارِد ہوئی ہیں۔ رمَضان کے تین حِصے کیے گئے جیساکہ مضمونِ بالا سے معلوم ہوا، بندۂ ناچیز کے خَیال میں تین حصے: رحمت اور مغفرت اور آگ سے خَلاصی کے درمیان میں فرق یہ ہے کہ، آدمی تین طرح کے ہیں: ایک وہ لوگ جن کے اوپر گناہوں کا بوجھ نہیں، اُن کے لیے شروع ہی سے رحمت اور انعام کی بارش ہوجاتی ہے۔ دوسرے وہ لوگ جو معمولی گنہگار ہیں، اُن کے لیے کچھ حصہ روزہ رکھنے کے بعد اُن روزوں کی برکت اور بدلے میں مغفرت اور گناہوں کی مُعافی ہوتی ہے۔ تیسرے وہ جو زیادہ گنہگار ہیں، اُن کے لیے زیادہ حصہ روزہ رکھنے کے بعد آگ سے خَلاصی ہوتی ہے، اور جن لوگوں کے لیے ابتدا ہی سے رحمت تھی اور اُن کے گناہ بخشے بخشائے تھے، اُن کا تو پوچھناہی کیا! کہ اُن کے لیے رحمتوں کے کس قدر اَنبار ہوںگے!! (وَاللہُ أعْلَمُ وَعِلْمُہٗ أتَمُّ). اِس کے بعد حضور ﷺنے ایک اَور چیز کی طرف رَغبت دِلائی ہے، کہ آقا لوگ اپنے مُلازِموں پر اِس مہینے میں تَخفیف رکھیں؛ اِس لیے کہ آخر وہ بھی روزے دار ہیں، کام کی زیادتی سے اُن کو روزے میں دِقَّت ہوگی؛ البتہ اگر کام زیادہ ہوتو اِس میں مُضایَقہ نہیں کہ رمَضان کے لیے ہَنگامی مُلازِم ایک آدھ بڑھالے؛ مگر جب ہی کہ مُلازِم روزے دار بھی ہو، ورنہ اُس کے لیے رمَضان بے رمَضان برابر، اور اِس ظلم و بے غیرتی کاتو ذکرہی کیا کہ خود روزہ خور