فضائل اعمال ۔ یونیکوڈ ۔ غیر موافق للمطبوع |
|
عمل کھلی ہوئی ہے، اِیثار وغم خواری کے باب میں اُن حضرات کا اتِّباع بھی دِل گُردے والے کا کام ہے، سینکڑوں ہزاروں واقعات ہیں جن کو دیکھ کر بجُز حیرت کے کچھ نہیں کہاجاتا۔ایک واقعہ مثالاً لکھتاہوں: ابو جَہم صکہتے ہیں کہ: یَرمُوک کی لڑائی میں مَیں اپنے چچازاد بھائی کو تلاش کرنے چلا، اور اِس خَیال سے پانی کا مَشکِیزہ بھی لے لیا کہ اگر اُس میںکچھ رَمَق باقی ہوئی تو پانی پِلا دُوںگا، اور ہاتھ مُنھ دھو دُوںگا، وہ اِتِّفاق سے پڑے ہوئے مِلے، مَیںنے اُن سے پانی کو پوچھا، اُنھوںنے اِشارے سے مانگا، کہ اِتنے میں برابر سے دوسرے زخمی نے آہ کی، چچا زاد بھائی نے پانی پینے سے پہلے اُس کے پاس جانے کا اشارہ کیا، اُس کے پاس گیا اور پوچھا، تو معلوم ہواکہ وہ بھی پیاسے ہیں اور پانی مانگتے ہیں، کہ اِتنے میں اُن کے پاس والے نے اشارہ کردیا، اُنھوں نے بھی خود پانی پینے سے قبل اُس کے پاس جانے کا اشارہ کیا، اِتنے مَیں وہاں تک پہنچا تو اُن کی رُوح پَروَاز کرچکی تھی، واپس دوسرے صاحب کے پاس پہنچا تو وہ بھی ختم ہوچکے تھے، تو لَوٹ کر چچازاد بھائی کے پاس آیا، تو دیکھا کہ اُن کا بھی وِصال ہوگیا۔ یہ ہیں تمھارے اَسلاف کے اِیثار، کہ خود پیاسے جان دے دی اور اجنبی بھائی سے پہلے پانی پینا گَوارا نہ کیا ۔رَضِيَ اللہُ عَنْھُمْ وَأرْضَاھُمْ، وَارْزُقْنَا اِتِّبَاعَھُمْ، اٰمین. ’’رُوحُ البَیان‘‘ میںسِیُوطیؒ کی ’’جَامِعُ الصَّغِیر‘‘ اور سَخاوِیؒ کی ’’مَقاصِد‘‘سے بہ روایتِ حضرت ابنِ عمرص نبیٔ کریم ﷺ کا ارشاد نقل کیاہے کہ: میری اُمَّت میں ہروقت پانچ سو برگُزِیدہ بندے اور چالیس اَبدال رہتے ہیں، جب کوئی شخص اُن میں سے مرجاتاہے فوراً دوسرا اُس کی جگہ لے لیتاہے، صحابہثنے عرض کیا کہ: اُن لوگوںکے خصوصی اعمال کیاہیں؟ تو آپ ﷺنے ارشاد فرمایا کہ: ظلم کرنے والوں سے دَرگُزر کرتے ہیں، اور بُرائی کا مَعاملہ کرنے والوں سے (بھی) اِحسان کا برتاؤ کرتے ہیں، اور اللہ کے عطافرمائے ہوئے رِزق میں لوگوںکے ساتھ ہَمدردی اور غم خواری کا برتاؤ کرتے ہیں۔ ایک دوسری حدیث سے نقل کیاہے کہ: جو شخص بھوکے کو روٹی کھلائے، یا ننگے کو کپڑا پہنائے، یا مسافر کو شب باشی کی جگہ دے، حق تَعَالیٰ شَانُہٗ قِیامت کے ہَولوں سے اُس کو پناہ دیتے ہیں۔ یحییٰ بَرمَکِیؒ، حضرت سفیان ثوریؒپر ہرماہ ایک ہزار درہم خرچ کرتے تھے، تو حضرت سفیانؒ سجدے میں اُن کے لیے دعا کرتے تھے کہ: ’’یا اللہ! یحییٰ نے میری دنیا کی کِفایت کی ، تُو اپنے لُطف سے اُس کی آخرت کی کِفایت فرما‘‘، جب یحییٰ کا انتقال ہوا تو لوگوں نے خواب میں اُن سے پوچھا کہ: کیا گزری؟ اُنھوںنے کہا کہ: سفیانؒ کی دُعا کی بہ دولت مغفرت ہوئی۔ اِس کے بعد حضورﷺنے روزہ افطار کرانے کی فضیلت ارشاد فرمائی۔