فضائل اعمال ۔ یونیکوڈ ۔ غیر موافق للمطبوع |
|
مِلانے سے قرآنِ پاک کے دَور کرنے کا -جو عام طور سے رَائج ہے- اِستِحباب نکالاہے۔ بِالجُملہ تلاوت کا خاص اہتمام جتنا بھی ممکن ہوسکے کرے۔ اور جووقت تلاوت سے بچے اُس کو بھی ضائع کرنا مناسب نہیں، کہ نبیٔ کریم ﷺنے اِسی حدیث کے آخر میں چار چیزوں کی طرف خاص طور سے مُتوجَّہ فرمایا، اور اِس مہینے میں اُن کی کثرت کا حکم فرمایا: کلمۂ طیبہ اور اِستغفار، اور جنَّت کے حُصُول اور دوزخ سے بچنے کی دعا؛ اِس لیے جتنا بھی وَقت مِل سکے اِن چیزوں میں صَرف کرنا سَعادَت سمجھے، اور یہی نبیٔ کریم ﷺکے ارشادِ مبارک کی قدر ہے۔ کیادِقَّت ہے کہ اپنے دُنیوی کاروبار میں مشغول رہتے ہوئے زبان سے دُرود شریف یا کلمۂ طیبہ کا بھی وِرد رہے، اورکَل کو یہ کہنے کامُنھ باقی رہے: مَیںگو رہا رَہینِ سِتَم ہائے روزگار ء لیکن تمھاری یاد سے غافل نہیںرہا ہَول پُکار:شور وغوغا۔ سوگ: غم۔ دِقَّت:تکلیف۔ بَشاشَت:خوشی۔ وَقعَت:اہمیت۔ غُرَبا: غریب لوگ۔ مُدارَات: اچھی طرح پیش آنا۔ مُساوات: برابری۔ شاہ راہِ عمل: عمل کا راستہ۔ اِیثار: ترجیح دینا۔ غم خواری:ہم دَردی۔ بجُز:سوائے۔ رَمَق:جان۔ پَروَاز کر:نکل جانا۔ گَوارا:پسند۔ برگُزِیدہ: منتخب۔ شب باشی:رات رہنا۔ ہَولوں: پریشانیاں۔ کِفایت کی: حسبِ ضرورت فائدہ حاصل ہونا۔ اِس کے بعد نبیٔ کریم ﷺنے اِس مہینے کی کچھ خُصوصِیَّتیں اور آداب ارشاد فرمائے: اوَّلاً یہ کہ: یہ صبرکا مہینہ ہے، یعنی اگر روزہ وغیرہ میں کچھ تکلیف ہوتو اُسے ذوق شوق سے برداشت کرنا چاہیے، یہ نہیںکہ مار دھاڑ، ہَول پُکار؛ جیساکہ اکثرلوگوں کی گرمی کے رَمَضان میں عادت ہوتی ہے، اِسی طرح اگر اتِّفاق سے سحر نہ کھائی گئی تو صبح سے ہی روزے کا سوگ شروع ہوگیا، اِسی طرح رات کی تراویح میں اگر دِقَّت ہوتو اُس کو بڑی بَشاشَت سے برداشت کرنا چاہیے، اُس کو مصیبت اور آفت نہ سمجھیں، کہ یہ بڑی سخت محرومی کی بات ہے۔ ہم لوگ دُنیوی معمولی اَغراض کی بہ دولت کھانا پینا، راحت وآرام سب چھوڑ دیتے ہیں، تو کیا رَضائے اِلٰہی کے مُقابلے میں اِن چیزوں کی کوئی وَقعَت ہوسکتی ہے!!۔ پھر ارشاد ہے کہ: یہ غم خواری کا مہینہ ہے، یعنی: غُرَبا، مَساکِین کے ساتھ مُدارَات کا برتاؤ کرنا، اگر دس چیزیں اپنی افطاری کے لیے تیار کی ہیںتو دو چار غُربا کے لیے بھی کم از کم ہونی چاہیے، ورنہ اصل تو یہ تھا کہ اُن کے لیے اپنے سے اَفضل نہ ہوتا تو مُساوات ہی ہوتی؛ غرض جس قدر بھی ہِمَّت ہوسکے اپنے اِفطار وسَحر کے کھانے میں غُربا کا حصہ بھی ضرور لگانا چاہیے۔ صحابۂ کرام ث اُمَّت کے لیے عملی نمونہ اور دِین کے ہرجُزو کو اِس قدر واضح طور پر عمل فرماکر دِکھلا گئے، کہ اب ہرنیک کام کے لیے اُن کی شاہ راہِ