فضائل اعمال ۔ یونیکوڈ ۔ غیر موافق للمطبوع |
|
ہوتاتھا، کہ اُس میں ڈاک بھی بند، اور ملاقات بھی ذرا گَوارا نہ تھی، بعض مخصوص خُدَّام کو صِرف اِتنی اجازت ہوتی تھی کہ، تراویح کے بعد جتنی دیر حضرت سادی چائے کے ایک دو فِنجان نوش فرمائیں اُتنی دیر حاضرِ خدمت ہوجایا کریں۔ فِقرہ: جُملہ۔ حَتَّی الوَسَع: جہاں تک ہوسکے۔ فائق: بڑھاہوا۔ دِقّت:حَرج۔ ماہ: مہینے۔ حَسبِ موقع: موقع کے مطابق۔ عَرصے: مدَّت۔ رَائج: جاری۔اِستِحباب: مُستَحب ہونا۔ صَرف: خرچ۔ سَعادَت: خوش نصیبی۔ دِقَّت: حرج۔ مَیںگو رہا رَہینِ سِتَم ہائے روزگار: مَیں اگرچہ زمانے کے ظلموں میں گھِرا رہا۔ بزرگوں کے یہ معمولات اِس وجہ سے نہیںلکھے جاتے کہ سَرسَری نگاہ سے اُن کو پڑھ لیا جائے، یا کوئی تَفریحی فِقرہ اُن پر کہہ دیا جائے؛ بلکہ اِس لیے ہیںکہ اپنی ہِمَّت کے مُوافِق اُن کا اتباع کیاجائے، اور حَتَّی الوَسَع پورا کرنے کا اہتمام کیاجائے، کہ ہرلائن اپنے مخصوص اِمتِیازات میںدوسرے پر فائق ہے۔ جولوگ دُنیوی مَشاغِل سے مجبور نہیںہیں کیاہی اچھا ہوکہ گیارہ مہینے ضائع کردینے کے بعد ایک مہینہ مَرمِٹنے کی کوشش کرلیں! مُلازِم پیشہ حضرات جودس بجے سے چار بجے تک دفتر میں رہنے کے پابند ہیں، اگر صبح سے دس بجے تک کم ازکم رمَضانُ المبارک کا مبارک مہینہ تلاوت میں خرچ کردیں تو کیا دِقّت ہے؟ آخر دُنیوی ضروریات کے لیے دَفتر کے عِلاوہ اَوقات میںسے وقت نکالاہی جاتاہے، اور کھیتی کرنے والے تو نہ کسی کے نوکر، نہ اوقات کے تغیُّر میںاُن کو ایسی پابندی کہ اُس کو بدل نہ سکیں، یا کھیت پر بیٹھے بیٹھے تلاوت نہ کرسکیں، اور تاجروں کے لیے تو اِس میںکوئی دِقَّت ہی نہیں کہ اِس مبارک مہینے میںدُکان کا وقت تھوڑا سا کم کر دیں، یاکم از کم دُکان ہی پر تجارت کے ساتھ تلاوت بھی کرتے رہاکریں، کہ اِس مبارک مہینے کو کلامِ الٰہی کے ساتھ بہت ہی خاص مُناسَبت ہے۔ اِسی وجہ سے عُموماً اللہ جَلَّ شَانُہٗکی تمام کتابیں اِسی ماہ میںنازل ہوئی ہیں، چناںچہ قرآنِ پاک لَوحِ محفوظ سے آسمانِ دنیا پر تمام کا تمام اِسی ماہ میں نازل ہوا، اور وہاں سے حَسبِ موقع تھوڑا تھوڑا تیئیس سال کے عَرصے میں نازل ہوا، اِس کے عِلاوہ حضرت ابراہیم عَلیٰ نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ کے صَحیفے اِسی ماہ کی یکم یا ۳؍ تاریخ کو عطاہوئے، اور حضرت داؤدں کو زَبور ۱۸؍ یا ۱۲؍ رمَضان کو ملی، اور حضرت موسیٰں کو تَورَیت ۶؍ رمَضانُ المُبارک کو عطا ہوئی، اور حضرت عیسیٰ ں کو اِنجیل ۱۲؍ یا ۱۳؍ رمَضان کو ملی؛ جس سے معلوم ہوتاہے کہ اِس ماہ کو کلامِ اِلٰہی کے ساتھ خاص مُناسَبت ہے۔ اِسی وجہ سے تلاوت کی کثرت اِس مہینے میں منقول ہے اورمشائخ کا معمول، حضرت جبرئیل ں ہرسال رمَضان میںتمام قرآن شریف نبیٔ کریم ﷺ کو سناتے تھے، اور بعض روایات میں آیاہے کہ: نبیٔ کریم ﷺ سے سنتے تھے، عُلَما نے اِن دونوں حدیثوں کے