فضائل اعمال ۔ یونیکوڈ ۔ غیر موافق للمطبوع |
|
ایک حدیث میں ہے کہ: اللہ کے بہترین بندے وہ لوگ ہیں جن کو دیکھ کر خدا یاد آجائے۔ خود حق سُبْحَانَہٗ وَتَقَدُّسْ کا ارشاد ہے: ﴿یٰأَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اتَّقُوْا اللہَ وَکُوْنُوْا مَعَ الصَّادِقِیْنَ﴾ ترجَمہ: اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ رہو۔(بیانُ القرآن) مُفسِّرین نے لکھا ہے کہ: سچوں سے مراد اِس جگہ مشائخِ صوفیہ ہیں، جب کوئی شخص اُن کی چوکھٹ کے خُدَّام میں داخل ہوجاتا ہے تو اُن کی تربیت اور قُوَّتِ وِلایت کی بہ دولت بڑے بڑے مَراتِب تک ترقی کرجاتا ہے۔ شیخ اکبرؒ تحریر فرماتے ہیں کہ: اگر تیرے کام دوسرے کی مرضی کے تابع نہیں ہوتے تو تُو کبھی بھی اپنے نفس کی خواہشات سے انتقال نہیں کرسکتا گو عمر بھر مُجاہَدے کرتا رہے؛ لِہٰذا جب بھی تجھے کوئی ایسا شخص ملے جس کا احترام تیرے دل میں ہو، اُس کی خدمت گزاری کر، اور اُس کے سامنے مُردہ بن کر رہ، کہ وہ تجھ میں جس طرح چاہیتَصرُّف کرے، اور تیری اپنی کوئی بھی خواہش نہ رہے، اُس کے حکم کیتَعمِیل میں جلدی کر، اور جس چیز سے روکے اُس سے احتراز کر، اگر پیشہ کرنے کا حکم کرے پیشہ کر؛ مگر اُس کے حکم سے نہ کہ اپنی رائے سے، بیٹھ جانے کا حکم کرے تو بیٹھ جا؛ لِہٰذا ضروری ہے کہ شیخِ کامل کی تلاش میں سَعی کر؛ تاکہ تیری ذات کو اللہ سے مِلا دے۔ نبیٔ کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ: کوئی قوم کسی مجلس میں بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرتی ہو تو ملائکہ اُس کو گھیر لیتے ہیں، رحمت اُن کو ڈھانپ لیتی ہے، اور حق سُبْحَانَہٗ وَتَقَدُّسْ اپنی پاک مجلس میں اُن لوگوں کا ذکر فرماتے ہیں۔ ایک دِل رَبودَہ کے واسطے اِس سے بڑھ کر کیا نعمت ہوسکتی ہے کہ محبوب کی مجلس میں اُس کا ذکر ہو؟۔ ایک دوسری حدیث میں ارشاد ہے کہ: اللہ کی یاد کرنے والی جماعت کے لوگوں کو -جو اخلاص سے اللہ کو یاد کر رہے ہوں- ایک پُکارنے والا آواز دیتا ہے کہ: اللہ نے تمھاری مغفرت کردی اور تمھاری بُرائیوں کو نیکیوں سے بدل دیا۔ دوسری جگہ ارشاد ہے کہ: جس مجلس میں اللہ تعالیٰ کی یاد نہیں، اُس کے رسول پر دُرود نہیں، اُس مجلس والوں کو قِیامت کے دن حَسرت ہوگی۔حضرت داؤد عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ کی دعا ہے کہ: یا اللہ! اگر تُو مجھے ذاکرین کی مجلس سے گذر کر غافِلین کی مجلس میں جاتا ہوا دیکھے تو میرے پاؤں توڑ دے: جب اُس کی صَوت وصورت سے ہے محرومی تو بہتر ہے میرے کانوں کا کَر ہونا اور آنکھیں کَور ہوجانی حضرت ابوہریرہ ص فرماتے ہیں کہ: جن مَجالِس میں اللہ تعالیٰ کی یاد ہوتی ہے وہ آسمان والوں کے نزدیک ایسی چمکتی ہیں جیسے کہ زمین والوں کے نزدیک ستارے۔حضرت ابوہریرہ ص ایک مرتبہ بازار میں تشریف لے گئے اور لوگوں کو مخاطب کرکے فرمایا کہ: تم لوگ یہاں بیٹھے ہو اور مسجد میں رسولُ