فضائل اعمال ۔ یونیکوڈ ۔ غیر موافق للمطبوع |
|
اپنے دعویٰ میں سچا ہوتا تو کبھی نافرمانی نہ کرتا؛ اِس لیے کہ عاشق ہمیشہ معشوق کا تابع دار ہوتا ہے۔ نبیٔ کریم ﷺ کا ارشادہے کہ: میری تمام اُمَّت جنت میں داخل ہوگی؛ مگر جس نے انکار کردیا، صحابہ ثنے عرض کیا کہ: ’’جس نے انکار کردیا‘‘ سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا کہ: جو شخص میری اطاعت کرے گا وہ جنت میں داخل ہوگا، اور جونافرمانی کرے گا وہ انکار کرنے والا ہے۔ ایک جگہ ارشاد ہے کہ: تم میں سے کوئی شخص اُس وقت تک مسلمان نہیں ہوسکتا کہ اُس کی خواہش اُس دِین کے تابع نہ ہوجائے جس کو مَیں لے کر آیا ہوں۔ (مشکوۃ) حیرت کی بات ہے، کہ اسلام اور مسلمانوں کی بَہبُودی کے دعوے دار، اللہ اور اُس کے رسول ﷺ کی اطاعت سے بے بہرہ ہوں! کسی بات کو اُن مُدِّعیوں کے سامنے یہ کہہ دینا کہ: سنت کے خلاف ہے، حضورﷺکے طریقے کے خلاف ہے، گویا بَرچھی مار دینا ہے: خلافِ پَیمبر کَسے رہ گُزید ء کہ ہرگز بہ منزل نخواہد رسید پیمبر عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ کے طریقے کے خلاف جو شخص بھی کوئی راستہ اختیار کرے گا کبھی بھی منزلِ مقصود تک نہیں پہنچ سکتا۔ بِالجُملہ اِس تحقیق کے بعد کہ یہ شخص اللہ والوں میں سے ہے اُس کے ساتھ رَبط کا بڑھانا، اُس کی خدمت میں کثرت سے حاضر ہونا، اُس کے علوم سے مُنتَفِع ہونا دین کی ترقی کا سبب ہے، اور نبیٔ کریم ﷺکا امر بھی ہے۔ ایک حدیث میں ارشاد ِعالی ہے کہ: جب تم جنَّت کے باغوں میں گذرا کرو تو کچھ حاصل بھی کرلیا کرو، صحابہث نے عرض کیا کہ: یارسولَ اللہ! جنت کے باغ کیا چیز ہیں؟ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: عِلمی مجالس۔ دوسری حدیث میں نبیٔ کریم ﷺکا ارشاد ہے کہ: لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کی تھی کہ: عُلَما کی خدمت میں بیٹھنے کو ضروری سمجھو اور حُکَمائے امت کے ارشادات کو غور سے سنا کرو، کہ حق تَعَالیٰ شَانُہٗ حِکمَت کے نور سے مُردہ دلوں کو ایسے زندہ فرماتے ہیں کہ جیسے مُردہ زمین کو موسلا دھار بارش سے، اور ’’حُکَما‘‘ دین کے جاننے والے ہی ہیں نہ کہ دوسرے اَشخاص۔ ایک اَور حدیث میں وارد ہے کہ: نبیٔ کریم ﷺسے کسی نے دریافت کیاکہ: بہترین ہم نشیں ہم لوگوں کے واسطے کون شخص ہے؟ حضورﷺ نے فرمایا کہ: جس کے دیکھنے سے اللہ کی یاد پیدا ہو، جس کی بات سے علم میںترقی ہو، جس کے عمل سے آخرت یاد آجائے۔ ’’ترغیب‘‘ میں اِن روایات کو ذکر کیا ہے۔