فضائل اعمال ۔ یونیکوڈ ۔ غیر موافق للمطبوع |
|
حضرت شِبلیؒ کے نام سے سب ہی واقف ہیں، وہ کہتے ہیں کہ: جب بھی مَیں اللہ سے ڈرا ہوں، اِس کی وجہ سے مجھ پر حِکمت اور عبرت کاایسا دروازہ کھلاہے جو اِس سے پہلے نہیں کھلا۔ حدیث میں آیا ہے، اللہجَلَّ شَانُہٗ فرماتے ہیں کہ: ’’مَیں اپنے بندے پر دو خوف جمع نہیں کرتا اور دو بے فکریاں نہیں دیتا: اگر دنیا میں مجھ سے بے فکر رہے تو قِیامت میں ڈراتاہوں، اور دنیا میں ڈرتا رہے توآخرت میں بے فکری عطاکرتاہوں‘‘۔ حضورﷺ کاارشاد ہے کہ: ’’جو اللہ سے ڈرتا ہے اُس سے ہر چیز ڈرتی ہے، اور جو غیرُاللہ سے ڈرتا ہے اُس کوہرچیز ڈراتی ہے۔ یحییٰ بن مُعاذص کہتے ہیں کہ: آدمی بے چارہ اگر جہنم سے اِتنا ڈرنے لگے جتنا تنگ دَستی سے ڈرتا ہے، تو سیدھا جنت میں جائے۔ ابُوسلیمان دَارانیؒ کہتے ہیں کہ: جس دل سے اللہ کاخوف جاتا رہتا ہے وہ برباد ہوجاتا ہے۔ حضور ﷺ کاارشاد ہے کہ: ’’جس آنکھ سے اللہ کے خوف کی وجہ سے ذراسا آنسو - خواہ مکھی کے سر کے برابر ہی کیوں نہ ہو- نکل کر چہرے پرگرتا ہے، اللہ تعالیٰ اُس چہرے کو آگ پرحرام فرما دیتا ہے‘‘۔ حضور ﷺکاایک اَور ارشاد ہے کہ: ’’جب مسلمان کادل اللہ کے خوف سے کانپتا ہے تواُس کے گناہ ایسے جھَڑتے ہیں جیسے درخت سے پَتے جھڑتے ہیں۔ میرے نبی ﷺکاایک اَور ارشاد ہے کہ: ’’جوشخص اللہ کے خوف سے روئے، اُس کا آگ میں جاناایسا ہی مشکل ہے جیسادودھ کا تھنوں میںواپس جانا‘‘۔ حضرت عقبہ بن عامرص ایک صحابی ہے، اُنھوںنے حضورﷺسے پوچھا کہ: نجات کاراستہ کیا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا کہ: ’’اپنی زبان کو روکے رکھو، گھر میں بیٹھے رہو، اور اپنی خطاؤں پرروتے رہو‘‘۔ حضرت عائشہ رَضِيَ اللہُ عَنْہَا نے ایک مرتبہ دریافت کیا کہ: آپ کی اُمَّت میں کوئی ایسابھی ہے جو بے حساب کتاب جنت میں داخل ہو؟ حضورﷺنے فرمایا: ’’ہاں! جو اپنے گناہوں کو یاد کرکے روتا رہے‘‘۔ میرے آقاﷺکا ایک اَور ارشاد ہے کہ: ’’اللہ کے نزدیک دو قطروں سے زیادہ کوئی قطرہ پسند نہیں: ایک آنسو کا قطرہ جو اللہ کے خوف سے نکلا ہو، دوسرا خون کاقطرہ جو اللہ کے راستے میں گرا ہو۔ ایک جگہ ارشاد ہے کہ: ’’قِیامت کے دن سات آدمی ایسے ہوںگے جن کواللہ جَلَّ شَانُہٗ اپناسایہ عطا فرماویں گے:ایک وہ شخص جوتنہائی میں اللہ کو یاد کرے