فضائل اعمال ۔ یونیکوڈ ۔ غیر موافق للمطبوع |
|
اور اِس کی وجہ سے اُس کی آنکھ سے آنسوبہنے لگیں۔ حضرت ابوبکر صدیق ص کا ارشاد ہے: ’’جو رو سکتا ہو وہ روئے، اورجس کورونانہ آئے وہ رونے کی صورت ہی بنالے‘‘۔ محمدبن مُنکَدِرؒ جب روتے تھے توآنسوؤں کواپنے منھ اورداڑھی سے پونچھتے تھے، اور کہتے تھے کہ: مجھے یہ روایت پہنچی ہے کہ: جہنم کی آگ اُس جگہ کونہیں چھوتی جہاں آنسوپہنچے ہوں۔ ثابت بُنانیؒ کی آنکھیں دُکھنے لگیں، طبیب نے کہا کہ: ایک بات کاوعدہ کرلو آنکھ اچھی ہوجاوے گی،کہ رویانہ کرو، کہنے لگے: آنکھ میں کوئی خوبی ہی نہیں اگروہ روئے نہیں۔ یزیدبن مَیسَرہؒ کہتے ہیں کہ: رونا سات وجہ سے ہوتا ہے:(۱) خوشی سے(۲) جنون سے (۳) دَرد سے (۴) گھبراہٹ سے (۵) دِکھلاوے سے (۶)نشے سے اور (۷) اللہ کے خوف سے؛یہی ہے وہ روناکہ اِس کاایک آنسوبھی آگ کے سمندروں کوبجھا دیتا ہے۔ کعب اَحبارص کہتے ہیں:اُس ذات کی قَسم!جس کے قبضے میں میری جان ہے، کہ اگر مَیں اللہ کے خوف سے روؤں اورآنسو میرے رخسار پر بہنے لگیں،یہ مجھے اِس سے زیادہ پسند ہے کہ پہاڑ کے برابر سونا صدقہ کروں۔ (قیام اللیل،۵۷ تا ۵۹) اِن کے عِلاوہ اَور بھی ہزاروں اِرشادات ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی یاد میں اور اپنے گناہوں کی فکر میں رونا کیمِیاہے اور بہت ہی ضروری اور مفید، اوراپنے گناہوں پر نظر کر کے یہی حالت ہوناچاہیے؛ لیکن اِس کے ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ اللہ کے فضل اوراُس کی رحمت کی اُمید میں بھی کمی نہ ہو، یقینااللہ کی رحمت ہرشیٔ کو وَسیع ہے۔ حضرت عمرص کاارشاد ہے کہ: ’’اگرقِیامت میں یہ اعلان ہوکہ: ایک شخص کے سِوا سب کوجہنَّم میں داخل کرو، تو مجھے اللہ کی رحمت سے یہ امیدہے کہ وہ شخص مَیں ہی ہوں، اور اگر یہ اعلان ہو کہ ایک شخص کے سِوا سب کو جنت میں داخل کرو، تو مجھے اپنے اعمال سے یہ خوف ہے کہ وہ شخص مَیں ہی نہ ہوں‘‘۔ اِس لیے دونوں چیزوں کوعلاحدہ علاحدہ سمجھنا اور رکھنا چاہیے، بِالخُصوص موت کے وقت میں اُمید کا معاملہ زیادہ ہونا چاہیے۔ حضورﷺکاارشاد ہے کہ: ’’تم میں سے کوئی شخص نہ مرے؛ مگر اللہ تعالیٰ کے ساتھ حُسنِ ظَن رکھتاہوا‘‘۔ امام احمد بن حنبلؒ کا جب انتقال ہونے لگاتواُنھوں نے اپنے بیٹے کو بلایا اور فرمایاکہ: ایسی احادیث مجھے سناؤ جن سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ اُمیدبڑھتی ہو۔