فضائل اعمال ۔ یونیکوڈ ۔ غیر موافق للمطبوع |
|
گاہے گاہے: کبھی کبھی۔ مَعاش: روزی۔ بدگمانی: فاسد خیال۔ اِحاطہ: گھیرنا۔ زِینہ: سیڑھی۔ ہوگئی تھیں، کسی شخص نے ایک مرتبہ دیکھ لیا، توفرمانے لگے کہ: ’’میرے رونے پر تعجب کرتے ہو، اللہ کے خوف سے سورج روتا ہے‘‘۔ایک مرتبہ ایسا ہی قصہ آیا، تو فرمایا کہ: ’’اللہ کے خوف سے چاند روتا ہے‘‘۔ ایک نوجوان صحابی صپر حضورﷺکا گزر ہوا، وہ پڑھ رہے تھے، جب ﴿فَإِذَا انْشَقَّتِ السَّمَآئُ فَکَانَتْ وَرْدَۃً کَالدِّہَانِ﴾[رحمٰن:۳۷] پرپہنچے توبدن کے بال کھڑے ہوگئے، روتے روتے دَم گھُٹنے لگا، اور کہہ رہے تھے: ’’ہاں! جس دن آسمان پھٹ جاویں گے (یعنی قِیامت کے دن)میرا کیا حال ہوگا؟ ہائے! میری بربادی‘‘، حضورﷺنے ارشادفرمایاکہ: ’’تمھارے اِس رونے کی وجہ سے فرشتے بھی رونے لگے‘‘۔ ایک انصاری نے تہجُّد پڑھا، اور پھر بیٹھ کربہت روئے، کہتے تھے: اللہ ہی سے فریاد کرتاہوں جہنَّم کی آگ کی، حضورﷺنے ارشاد فرمایا کہ: ’’تم نے آج فرشتوں کو رُلادیا‘‘۔ عبداللہ بن رواحہ ص - ایک صحابی ہیں- رو رہے تھے، بیوی بھی اُن کی اِس حالت کو دیکھ کررونے لگیں، پوچھاکہ: تم کیوں روتی ہو؟ کہنے لگیں کہ: جس وجہ سے تم روتے ہو، عبداللہ بن رَواحہ صنے کہا کہ: مَیں اِس وجہ سے رو رہاہوں کہ جہنم پر تو گزرنا ہے ہی، نہ معلوم نجات ہوسکے گی یا وہیں رہ جاؤںگا؟۔ زُرارہ بن اَوفیٰص ایک مسجد میںنمازپڑھارہے تھے، ﴿فَإِذَا نُقِرَ فِيْ النَّاقُوْرِ﴾ [مدثر:۸] پر جب پہنچے، تو فوراً گرگئے اور انتقال ہوگیا، لوگ اُٹھاکر گھر تک لائے۔ حضرت خُلَیْدؒ ایک مرتبہ نمازپڑھ رہے تھے، ﴿کُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَۃُ الْمَوْتِ﴾ [انبیاء:۳۵] پرپہنچے، تو اُس کو بار بارپڑھنے لگے، تھوڑی دیرمیں گھرکے ایک کونے سے آواز آئی کہ: کتنی مرتبہ اِس کو پڑھو گے؟ تمھارے اِس بار بار کے پڑھنے سے چار جِن مرچکے ہیں۔ ایک اَور صاحب کاقصہ لکھا ہے کہ: پڑھتے پڑھتے جب ﴿ثُمَّ رُدُّوْا إِلیَ اللہِ مَوْلٰہُمُ الْحَقِّ﴾ [اَنعام:۶۲] پرپہنچے، توایک چیخ ماری اورتڑپ تڑپ کر مرگئے۔ اَور بھی اِس قِسم کے واقعات کثرت سے گزرے ہیں۔ حضرت فُضیلؒ -مشہوربزرگ ہیں- کہتے ہیں کہ: اللہ کاخوف ہر خیر کی طرف رہبری کرتا ہے۔