فضائل اعمال ۔ یونیکوڈ ۔ غیر موافق للمطبوع |
|
مراد ہوسکتا ہے۔ اِس حدیث میں اہم مسئلہ اخلاص کا ہے، اور اخلاص کی قید اَور بھی بہت سی احادیث میں اِس رسالے میں نظر سے گزرے گی، حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں اخلاص ہی کی قدر ہے، جس درجے کا اخلاص ہوگا اُسی درجے کی عمل کی قیمت ہوگی۔ صوفیا کے نزدیک اخلاص کی حقیقت یہ ہے کہ: قال اور حال برابر ہو۔ ایک حدیث میں آئندہ آرہا ہے کہ: اخلاص یہ ہے کہ گناہوںسے روک دے۔ ’’بَہجَۃُ النُّفوس‘‘ میں لکھا ہے: ایک بادشاہ کے لیے -جو نہایت ہی جابِر اور مُتشدِّد تھا- ایک جہاز میں بہت سی شراب لائی جارہی تھی، ایک صاحب کا اُس جہاز پر گُزر ہوا، اور جس قدرٹھِلیاں شراب سے بھری ہوئی تھیں سب ہی توڑ دِیں، ایک چھوڑ دی، کسی شخص کو ہمَّت اُن کو روکنے کی نہ پڑی؛ لیکن اِس پر حیرت تھی کہ اُس بادشاہ کیتَشدُّد کا مقابلہ بھی کوئی نہیں کرسکتا تھا، پھر اِس نے کس طرح جُرأت کی! بادشاہ کو اِطِّلاع دی گئی، اُس کو بھی تعجُّب ہوا، اوّلاً اِس بات پر کہ: اُس کے مال پر کس طرح ایک معمولی آدمی نے جرأت کی! اور پھر اِس پر کہ ایک مَٹکی کیوں چھوڑ دی! اُن صاحب کو بلایا گیا، پوچھا کہ: یہ کیوں کیا؟ اُنھوں نے جواب دیا کہ: میرے دل میں اِس کا تقاضا ہوا؛ اِس لیے ایسا کیا، تمھارا جو دل چاہے سزا دے دو، اُس نے پوچھا کہ: یہ ایک کیوں چھوڑی؟ اُنھوں نے کہا کہ: مجھے اوّلاً اِسلامی غیرت کا تقاضا تھا؛ اِس لیے مَیں نے توڑِیں؛ مگر جب ایک رہی تو میرے دل میں ایک خوشی سی پیدا ہوئی کہ مَیں نے ایک ناجائز کام کو مِٹادیا، تو مجھے اُس کے توڑنے میں یہ شبہ ہوا کہ یہ حَظِّ نفس: دل کی خوشی کی وجہ سے ہے؛ اِس لیے ایک کو چھوڑ دیا، بادشاہ نے کہا: اِس کو چھوڑ دو، یہ مجبور تھا۔(بہجۃ النفوس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔) ’’اِحیاء ُالعلوم‘‘ میںلکھا ہے کہ: بنی اسرائیل میں ایک عابد تھا جو ہروقت عبادت میں مشغول رہتا تھا، ایک جماعت اُس کے پاس آئی اور کہا کہ: یہاں ایک قوم ہے جو ایک درخت کوپُوجتی ہے، یہ سن کر اُس کو غصہ آیا، اور کُلہاڑا کندھے پر رکھ کر اُس کو کاٹنے کے لیے چل دیا، راستے میں شیطان ایک پِیر مرد کی صورت میں مِلا، عابدسے پوچھا: کہاں جارہے ہو؟ اُس نے کہا: فلاں درخت کاٹنے جاتا ہوں، شیطان نے کہا: تمھیں اُس درخت سے کیا واسطہ؟ تم اپنی عبادت میں مشغول رہو، تم نے اپنی عبادت کو ایک مُہمَل کام کے واسطے چھوڑ دیا، عابد نے کہا: یہ بھی عبادت ہے، شیطان نے کہا کہ: مَیں نہیں کاٹنے دوںگا، دونوں میں مُقابلہ ہوا، وہ عابد اُس کے سینے پر چڑھ گیا، شیطان نے اپنے کو عاجز دیکھ کر خوشامد کی اور کہا: اچھا! ایک بات سن لے، عابد نے اُس کو چھوڑ دیا، شیطان نے کہا: اللہ نے تجھ پر اُس کو فرض تو کیا نہیں، تیرا اُس سے کوئی نقصان نہیں، تو اُس کی پرستش نہیں کرتا، اللہ کے بہت سے نبی ہیں، اگر وہ چاہتا تو کسی نبی کے ذریعے سے اُس کو کٹوا دیتا، عابد نے کہا: مَیں ضرور کاٹوںگا،