فضائل اعمال ۔ یونیکوڈ ۔ غیر موافق للمطبوع |
|
تمھیں نماز میں کوئی چیز یاد آجاتی ہے؟ اُنھوں نے فرمایا کہ: نمازسے بھی زیادہ کوئی محبوب چیز ہے جو نماز میں یاد آئے!۔ آنکھ جھَپک گئی: نیند کی وجہ سے آنکھیں بند ہوجانا۔ اِحاطہ:گھیرنا۔ تردُّد: شک۔ تردید: رد کرنا۔ تَعَب: تھکان۔ مَعاصی: گناہوں۔ ناآشنا: ناواقف۔ زَہے نصیب: خوش نصیبی۔ ’’بَهجَۃُ النُّفُوْس‘‘ میں لکھا ہے کہ: ایک بزرگ کی خدمت میں ایک شخص ملنے کے لیے آیا، وہ ظہر کی نماز میں مشغول تھے، وہ انتظار میں بیٹھ گیا، جب نماز سے فارغ ہوچکے تو نفلوں میں مشغول ہوگئے، اورعصر تک نفلیں پڑھتے رہے، یہ انتظار میں بیٹھا رہا، نفلوں سے فارغ ہوئے تو عصر کی نماز شروع کردی، اور اُس سے فارغ ہوکر ذکر میں مشغول ہوگئے، اورمغرب تک مشغول رہے، پھر مغرب کی نمازپڑھی اورنفلیں شروع کردیں، عشاء تک اُس میںمشغول رہے، یہ بے چارہ انتظار میں بیٹھا رہا، عشاء کی نمازپڑھ کر پھرنفلوں کی نیت باندھ لی، اورصبح تک اُس میں مشغول رہے، پھر صبح کی نماز پڑھی اور ذکر شروع کردیا، اَورَاد و وَظائف پڑھتے رہے، اِسی میں مُصلَّے پر بیٹھے بیٹھے آنکھ جھَپک گئی، تو فوراً آنکھوں کو مَلتے ہوئے اُٹھے، اِستِغفاروتوبہ کرنے لگے، اور یہ دعا پڑھی: أَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ عَیْنٍ لَّاتَشْبَعُ مِنَ النَّوْمِ (اللہ ہی سے پناہ مانگتاہوں ایسی آنکھ سے جونیند سے بھرتی ہی نہیں)۔ ایک صاحب کاقصہ لکھاہے کہ: وہ رات کوسونے لیٹتے توکوشش کرتے کہ آنکھ لگ جائے؛ مگر جب نیند نہ آتی تو اُٹھ کرنماز میں مشغول ہوجاتے، اورعرض کرتے: ’’یااللہ! تجھ کو معلوم ہے کہ جہنَّم کی آگ کے خوف نے میری نیند اُڑا دی‘‘، اوریہ کہہ کر صبح تک نماز میں مشغول رہتے۔ ساری رات بے چینی اور اِضطراب یاشوق واِشتیاق میں جاگ کر گزار دینے کے واقعات اِس کثرت سے ہیں کہ اُن کااِحاطہ ممکن نہیں، ہم لوگ اِس لَذَّت سے اِتنے دُور ہوگئے ہیں کہ ہم کو اِن واقعات کی صِحت میں بھی تردُّد ہونے لگا؛ لیکن اوَّل تو جس کثرت اور تَواتُر سے یہ واقعات نقل کیے گئے ہیں، اُن کی تردید میں ساری ہی تواریخ سے اِعتِماد اُٹھتا ہے، کہ واقعے کی صِحَّت کثرتِ نقل ہی سے ثابت ہوتی ہے۔ دوسرے ہم لوگ اپنی آنکھوں سے ایسے لوگوں کو آئے دن دیکھتے ہیں جو سِنیمااور تھیٹر میں ساری رات کھڑے کھڑے گزار دیتے ہیں، کہ نہ اُن کو تَعَب ہوتا ہے نہ نیند سَتاتی ہے، پھر کیاوجہ کہ ہم ایسے مَعاصی کی لَذَّتوں کایقین کرنے کے باوجود اِن طاعات کی لَذَّتوں کاانکار کریں!؛ حالاںکہ طاعات میں اللہ تَعَالیٰ شَانُہٗ کی طرف سے قوَّت بھی عطا ہوتی ہے، ہمارے اِس تَردُّد کی وجہ اِس کے سِوا اَور کیا ہوسکتی ہے کہ، ہم اِن لَذَّتوں سے ناآشنا ہیں! اور نابالغ، بُلوغ کی لذتوں سے ناواقف ہوتا ہی ہے۔ حق تَعَالیٰ شَانُہٗ اِس لَذَّت تک پہنچا دیں توزَہے نصیب۔