فضائل اعمال ۔ یونیکوڈ ۔ غیر موافق للمطبوع |
|
کہتے ہیں کہ: پہلے زمانے میں شیطان آدمیوں کو نظر آجاتا تھا، ایک صاحب نے اُس سے کہا کہ: کوئی ترکیب ایسی بتا کہ مَیںبھی تجھ جیسا ہوجاؤں، شیطان نے کہا کہ: ایسی فرمائش تو آج تک مجھ سے کسی نے بھی نہیں کی، تجھے اِس کی کیا ضرورت پیش آئی؟ اُنھوں نے کہا: میرا دل چاہتا ہے، شیطان نے کہا: اِس کی ترکیب یہ ہے کہ: نمازمیں سُستی کر، اورقَسم کھانے میں ذرا پرواہ نہ کر، جھوٹی سچی ہر طرح کی قَسمیں کھایاکر، اُن صاحب نے کہا کہ: مَیں اللہ سے عہدکرتا ہوں کہ کبھی نماز نہ چھوڑوںگا، اور کبھی قَسم نہ کھاؤںگا، شیطان نے کہا کہ: تیرے سِوا مجھ سے چال کے ساتھ کسی نے کچھ نہیں لیا، مَیں نے بھی عہد کرلیا کہ، آدمی کوکبھی نصیحت نہیں کروںگا۔(تنبیہ الغافلین، ۱:۲۹۹) حضرت اُبَیصفرماتے ہیں کہ: حضورﷺنے ارشاد فرمایا: اِس اُمت کو رَفعت وعِزَّت اور دِین کے فَروغ کی بَشارت دو؛ لیکن دِین کے کسی کام کوجو شخص دنیاکے واسطے کرے آخرت میں اُس کاکوئی حصہ نہیں۔ (الترغیب۔۔۔۔۔) ایک حدیث میں آیا ہے، حضورِ اقدس ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ: مَیں نے حق تَعَالیٰ شَانُہٗ کی بہترین صورت میں زیارت کی،مجھ سے ارشاد ہوا کہ: محمد!مَلَأِ أَعلیٰ والے یعنی: فرشتے کس چیز میں جھگڑ رہے ہیں؟مَیں نے عرض کیا: مجھے توعلم نہیں، تو حق تَعَالیٰ شَانُہٗ نے اپنا دستِ مبارک میرے سینے پررکھ دیا،جس کی ٹھنڈک سینے کے اندر تک محسوس ہوئی، اور اِس کی برکت سے تمام عالَم مجھ پر مُنکشِف ہوگیا، پھر مجھ سے ارشاد فرمایا: اب بتاؤ! فرشتے کس چیز میں جھگڑ رہے ہیں؟ مَیں نے عرض کیا کہ: درجہ بلند کرنے والی چیزوں میں، اور اُن چیزوں میں جو گناہوں کا کَفَّارہ ہوجاتی ہیں، اور جماعت کی نماز کی طرف جو قدم اُٹھتے ہیں اُن کے ثواب میں، اور سردی کے وقت وُضو کو اچھی طرح سے کرنے کے فضائل میں، اور ایک نماز کے بعدسے دوسری نمازتک انتظار میں بیٹھے رہنے کی فضیلت میں، جوشخص اِن کااِہتِمام کرے گا بہترین حالت میں زندگی گذارے گا، اور بہترین حالت میں مرے گا۔ (ترمذی، ابواب التفسیر، حدیث: ۳۲۳۴) مُتعَدِّد احادیث میں آیا ہے کہ: حق تَعَالیٰ شَانُہٗ ارشاد فرماتے ہیں: اے ابنِ آدم! تُو دن کے شروع میں میرے لیے چار رکعت پڑھ لیا کر، مَیں تمام دن کے تیرے کام بنا دیا کروںگا۔ ’’تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْنَ‘‘ میں ایک حدیث لکھی ہے کہ: نماز اللہ کی رَضاکا سبب ہے، فرشتوں کی محبوب چیزہے، انبیاء عَلَیْہِمُ السَّلَامُ کی سنت ہے، اِس سے مَعرفت کا نور پیدا ہوتا ہے، دعا قبول ہوتی ہے، رِزق میں برکت ہوتی ہے، یہ ایمان کی جڑ ہے، بدن کی راحت ہے، دُشمن کے لیے ہتھیار ہے، نمازی کے لیے سفارشی ہے، قبر میں چَراغ ہے اور اُس کی وَحشت میں دِل بہلانے والی ہے، مُنکَرنکیر کے سوال کاجواب ہے، اور قِیامت کی دھوپ میں سایہ ہے، اور اندھیرے میں روشنی