فضائل اعمال ۔ یونیکوڈ ۔ غیر موافق للمطبوع |
|
سکتا، فرشتے دُور ہی سے کھڑے ہوکر سوال کرتے ہیں۔ (در منثور۔۔۔۔) ایک صحابی ارشادفرماتے ہیں کہ: جب حضورﷺ کے گھروالوں پر خرچ کی کچھ تنگی ہوتی، تو آپ ﷺ اُن کو نماز کا حکم فرماتے، اور یہ آیت تلاوت فرماتے: ﴿وَأْمُرْ أَہْلَکَ بِالصَّلوٰۃِ وَاصْطَبِرْ عَلَیْہَا، لَانَسْئَلُکَ رِزْقاً، نَحْنُ نَرْزُقُکَ، وَالْعَاقِبَۃُ لِلتَّقْویٰ﴾: اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم کیجیے، اور خود بھی اِس کا اِہتِمام کرتے رہیے، ہم آپ سے روزی (کَموانا) نہیں چاہتے، روزی تو ہم دیںگے، اور بہترین انجام توپرہیزگاری ہی کا ہے۔ حضرت اسماء رَضِيَ اللہُ عَنْہَا کہتی ہیں: مَیں نے حضورﷺسے سنا کہ، قِیامت کے دن سارے آدمی ایک جگہ جمع ہوںگے، اور فرشتہ جو بھی آواز دے گا سب کو سنائی دے گی، اُس وقت اِعلان ہوگا: کہاں ہیں وہ لوگ جو راحت اورتکلیف میں ہرحال میں اللہ کی حَمد کرتے تھے؟ یہ سن کر ایک جماعت اُٹھے گی اور بغیر حساب کتاب کے جنت میں داخل ہوجائے گی، پھراِعلان ہوگا: کہاں ہیں وہ لوگ جو راتوں کوعبادت میں مشغول رہتے تھے، اور اُن کے پہلو بستروں سے دُور رہتے تھے؟ پھرایک جماعت اُٹھے گی اور بغیر حساب کتاب کے جنت میں داخل ہوجائے گی، پھر اِعلان ہوگا: کہاں ہیں وہ لوگ جن کو تجارت اور خریدوفروخت اللہ کے ذکر سے غافل نہیں کرتی تھی؟ پھرایک جماعت اُٹھے گی اور بغیر حساب کتاب کے جنت میں داخل ہوجائے گی۔(در منثور۔۔۔۔) ایک اَور حدیث میں بھی یہی قِصَّہ آیا ہے، اُس میں یہ بھی ہے کہ: اِعلان ہوگا: آج مَحشر والے دیکھیںگے کہ کریم لوگ کون ہیں؟ اور اِعلان ہوگا: کہاں ہیں وہ لوگ جن کو تجارتی مَشاغِل اللہ کے ذکر اور نماز سے نہیں روکتے تھے؟۔ (در منثور۔۔۔۔) شیخ نَصَر سَمرقَندیؒ نے’’تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْنَ‘‘ میں بھی یہ حدیث لکھی ہے، اِس کے بعدلکھا ہے کہ: جب یہ حضرات بغیرحساب کتاب چھوٹ چُکیںگے، تو جہنَّم سے ایک عُنُق (لمبی گردن) ظاہرہوگی، جو لوگوں کو پھاندتی ہوئی چلی آئے گی، اُس میں دو چمک دار آنکھیں ہوںگی، اور نہایت فَصیح زبان ہوگی، وہ کہے گی کہ: مَیں ہر اُس شخص پر مُسلَّط ہوں جو مُتَکبِّر، بدمزاج ہو، اور مجمع میں سے ایسے لوگوں کو اِس طرح چُن لے گی جیسا کہ جانور دانہ چُگتا ہے، اُن سب کو چُن کرجہنَّم میں پھینک دے گی؛ اُس کے بعدپھر اِسی طرح دوبارہ نکلے گی، اور کہے گی کہ: اب مَیں ہر اُس شخص پر مُسلَّط ہوں جس نے اللہ کو اور اُس کے رسول ﷺ کو اِیذا دی، اُن لوگوں کوبھی جماعت سے چُن کر لے جائے گی؛ اِس کے بعد سَہ بارہ پھر نکلے گی، اوراِس مرتبہ تصویر والوں کو چُن کرلے جائے گی؛ اِس کے بعد جب یہ تینوں قِسم کے آدمی مجمع سے چھَٹ جائیںگے توحساب کتاب شروع ہوگا۔(تنبیہ الغافلین، ۱:۲۹۸)