فضائل اعمال ۔ یونیکوڈ ۔ غیر موافق للمطبوع |
|
ایک دوسری حدیث میں اِسی قِسم کا ایک اَور قصہ ہے، جس میں ہے کہ: حضورﷺنے ایک جماعت کے ساتھ یہ برتاؤ دیکھا توحضرت جبرئیل ں سے دریافت کیا، اُنھوں نے فرمایا کہ: یہ وہ لوگ ہیں جو نماز میں سُستی کرتے تھے۔(البزار، حدیث:۵۵۔ الترغیب، ۱:۱۹۹) مجاہدؒ کہتے ہیں کہ: جو لوگ نماز کے اوقات معلوم رکھنے کااِہتِمام رکھتے ہیں اُن میں ایسی برکت ہوتی ہے جیسی حضرت ابراہیمں اور اُن کی اولاد میں ہوئی۔ (دُرِّمنثور۔۔۔۔) حضرت انس صحضورﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ: جوشخص دنیاسے ایسے حال میں رخصت ہو کہ اخلاص کے ساتھ ایمان رکھتا ہو، اُس کی عبادت کرتاہو، نماز پڑھتا ہو، زکوۃ اداکرتا ہو، تو وہ ایسی حالت میں دنیاسے رخصت ہوگا کہ حق تَعَالیٰ شَانُہٗاُس سے راضی ہوںگے۔(ابن ماجہ،حدیث: ۷۰) حضرت انس صحضورﷺ سے حق تعالیٰ کایہ ارشادنقل کرتے ہیں کہ: مَیں کسی جگہ عذاب بھیجنے کا اِرادہ کرتا ہوں؛ مگر وہاں ایسے لوگوں کو دیکھتا ہوں جو مسجدوں کو آباد کرتے ہیں، اللہ کے واسطے آپس میںمحبت رکھتے ہیں، اخیر راتوں میں اِستِغفار کرتے ہیں، توعذاب کو مَوقوف کر دیتا ہوں۔ (در منثور۔۔۔۔) حضرت ابودَرداء ص نے حضرت سلمان صکو ایک خط لکھا، جس میں یہ لکھا کہ: مسجد میں اکثر اوقات گزارا کرو، مَیں نے حضورﷺسے سنا ہے کہ: ’’مسجد مُتقی کاگھر ہے، اورا للہ جَلَّ شَانُہٗ نے اِس بات کاعہد فرما لیاہے کہ: جو شخص مسجدوں میں اکثر رہتا ہے اُس پر رحمت کروںگا، اُس کو راحت دُوںگا، اور قِیامت میں پُل صِراط کا راستہ آسان کر دُوںگا، اور اپنی رِضا نصیب کروںگا‘‘۔ (در منثور۔۔۔۔) حضرت عبداللہ بن مسعودص حضورﷺسے نقل کرتے ہیں کہ: مسجدیں اللہ کے گھرہیں، اور گھر آنے والے کا اِکرام ہوتا ہی ہے؛ اِس لیے اللہ پر اُن کا اِکرام ضروری ہے جو مسجدوں میں حاضر ہونے والے ہیں۔(در منثور۔۔۔۔) ابوسعیدخُدری ص حضورﷺسے نقل کرتے ہیں کہ: جوشخص مسجد سے اُلفت رکھے حق تَعَالیٰ شَانُہٗاُس سے اُلفت رکھتے ہیں۔(در منثور۔۔۔۔) حضرت ابوہریرہ صحضورﷺسے نقل کرتے ہیں کہ: جب مُردہ قبر میں رکھ دیاجاتا ہے، تو جو لوگ قبر تک ساتھ گئے تھے وہ ابھی تک واپس بھی نہیںہوتے کہ فرشتے اُس کے امتحان کے لیے آتے ہیں، اُس وقت اگر وہ مومن ہے تونماز اُس کے سَرکے قریب ہوتی ہے، اور زکوۃ دائیں جانب، اور روزہ بائیں جانب، اور باقی جتنے بھلائی کے کام کیے تھے وہ پاؤں کی جانب ہوجاتے ہیں، اور ہر طرف سے اُس کااِحاطہ کرلیتے ہیں کہ اُس کے قریب تک کوئی نہیں پہنچ