فضائل اعمال ۔ یونیکوڈ ۔ غیر موافق للمطبوع |
|
گنجائش۔ فائدہ:یہ حدیث پوری اگرچہ عام کتبِ حدیث میں مجھے نہیں ملی؛ لیکن اِس میں جتنی قِسم کے ثواب اورعذاب ذکر کیے گئے ہیں اُن کی اکثر کی تائید بہت سی رِوایات سے ہوتی ہے، جن میں سے بعض پہلے گزرچکے اوربعض آگے آرہے ہیں، اورپہلی روایات میں بے نمازی کا اسلام سے نکل جانابھی مذکور ہے، تو پھر جس قدر عذاب ہو تھوڑا ہے؛ البتہ یہ ضرور ہے کہ جو کچھ مذکور ہے اور آئندہ آرہا ہے، وہ سب اِس فعل کی سزا ہے، اُس کے مُستحِقِّ سزاہونے کے بعد اور اِس دفعہ کی فَردِ جُرم کے ساتھ ہی اِرشادِ خداوندی ﴿اِنَّ اللہَ لَایَغْفِرُ أَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَادُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآءُ﴾کہ، اللہ تعالیٰ شرک کی تو مُعافی نہیں فرمائیںگے، اِس کے عِلاوہ جس کی دل چاہے مُعافی فرما دیںگے، اِس آیتِ شریفہ اور اِس جیسی آیات اور احادیث کی بِنا پر اگر مُعاف فرما دیں توزَہے قسمت۔ احادیث میں آیا ہے کہ ،قِیامت میں تین عدالتیں ہیں: ایک کفرو اسلام کی، اِس میں بالکل بخشش نہیں۔ دوسری حقوق العباد کی، اِس میں حق والے کاحق ضرور دِلایا جائے گا، چاہے اُس سے لیا جائے جس کے ذمہ ہے، یا اُس کو مُعاف فرمانے کی مرضی ہو تو اپنے پاس سے دیاجائے گا۔ تیسری عدالت اللہ تعالیٰ کے اپنے حقوق کی ہے، اِس میں بخشش کے دروازے کھول دیے جائیںگے۔(مسند احمد، ۲۶۰۳۱) اِس بنا پر یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اپنے اَفعال کی سزائیں تویہی ہیں جو احادیث میں وارد ہوئیں؛ لیکن مَراحمِ خُسرَوَانَہ اِس سے بالاتر ہیں۔ اِن کے عِلاوہ اَور بھی بعض قِسم کے عذاب اور ثواب احادیث میں آئے ہیں، ’’بخاری شریف‘‘ کی ایک حدیث میں ہے کہ: حضورِاقدس ﷺ کامعمول تھا کہ صبح کی نماز کے بعدصحابہ ث سے دریافت فرماتے کہ: کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟ اگر کوئی دیکھتا تو بیان کردیتا، حضورﷺ اُس کی تعبیر ارشاد فرمادیتے، ایک مرتبہ حضورﷺنے حسبِ معمول دریافت فرمایا، اِس کے بعد ارشاد فرمایا کہ: مَیں نے ایک خواب دیکھا ہے کہ: دوشخص آئے اورمجھے اپنے ساتھ لے گئے، اِس کے بعدبہت لمبا خواب ذکر فرمایا، جس میں جنت اور دوزخ اور اُس میں مختلف قِسم کے عذاب لوگوں کو ہوتے ہوئے دیکھے، مِن جُملہ اُن کے ایک شخص کو دیکھا کہ: اُس کا سر پتھر سے کُچلا جا رہا ہے، اوراِس زور سے پتھر مارا جاتا ہے کہ وہ پتھر لُڑھکتا ہوا دُور جا پڑتا ہے،اِتنے اُس کو اُٹھایا جاتا ہے وہ سر پھر ویسا ہی ہوجاتا ہے، تو دوبارہ اُس کو زور سے مارا جاتا ہے، اِسی طرح اُس کے ساتھ برتاؤ کیا جارہا ہے، حضور ﷺنے اپنے دونوں ساتھیوں سے جب دریافت فرمایا کہ: یہ کون شخص ہے؟ تو اُنھوں نے بتایا کہ: اِس شخص نے قرآن شریف پڑھا تھا اور اُس کو چھوڑ دیا تھا، اور فرض نماز چھوڑ کرسوجاتاتھا۔(بخاری، کتاب التعبیر، باب تعبیر الرؤیا بعد الصبح، حدیث: ۷۰۴۷)