فضائل اعمال ۔ یونیکوڈ ۔ غیر موافق للمطبوع |
|
عن النبيﷺ نحو هذا؛ وذکر السیوطي في ذیل ’’اللآلي‘‘ بعد ما أخرج بمعناہ من تخریج ابن النجار في تاریخ بغداد بسندہ إلیٰ أبي هریرۃ، قال في ’’المیزان‘‘: هذا حدیث باطل، رکبہ محمد بن علي بن عباس علیٰ أبي بکر بن زیاد النیسابوري، قلت: لکن ذکر الحافظ في ’’المنبهات‘‘ عن أبي هریرۃ مرفوعاً: اَلصَّلَاۃُ عِمَادُ الدِّیْنَ، وفیها عشر خصال الحدیث ذکرتُہ في الهندیۃ، وذکر الغزالي في ’’دقائق الأخبار‘‘ بنحو هذا أتم منہ، وقال: مَنْ حَافَظَ عَلَیْهَا أَکْرَمَ اللہُ بِخَمْسَ عَشَرَۃٍ، إلخ مفصلًا) ترجَمہ: ایک حدیث میں آیا ہے کہ: جوشخص نماز کااِہتِمام کرتا ہے، حق تَعَالیٰ شَانُہٗ پانچ طرح سے اُس کااِعزاز واِکرام فرماتے ہیں: ایک یہ کہ، اُس پرسے رِزق کی تنگی ہٹادی جاتی ہے، دوسرے یہ کہ، اُس سے عذابِ قبر ہٹا دیاجاتا ہے، تیسرے یہ کہ، قِیامت کو اُس کے اعمال نامے دائیں ہاتھ میں دیے جائیںگے (جن کا حال سورۂ ’’اَلْحَاقَّۃُ‘‘ میں مُفصَّل مذکور ہے کہ: جن لوگوں کے نامۂ اعمال داہنے ہاتھ میں دیے جائیںگے وہ نہایت خوش وخُرَّم ہر شخص کو دِکھاتے پھریںگے)، اور چوتھے یہ کہ، پُل صِراط پرسے بجلی کی طرح گزر جائیںگے، پانچویں یہ کہ، حساب سے محفوظ رہیں گے۔ اور جو شخص نمازمیں سُستی کرتا ہے اُس کوپندرہ طریقے سے عذاب ہوتا ہے: پانچ طرح دنیا میں، اورتین طرح سے موت کے وقت، اور تین طرح قبر میں، اور تین طرح قبر سے نکلنے کے بعد؛ دنیاکے پانچ تویہ ہیں: اوَّل یہ کہ، اُس کی زندگی میں برکت نہیں رہتی، دوسرے یہ کہ، صُلَحا کا نور اُس کے چہرے سے ہٹا دیا جاتا ہے، تیسرے یہ کہ، اُس کے نیک کاموں کا اَجر ہٹا دِیا جاتا ہے، چوتھے، اُس کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں، پانچویں یہ کہ، نیک بندوں کی دعاؤں میں اُس کا اِستحقاق نہیں رہتا؛ اور موت کے وقت کے تین عذاب یہ ہیں کہ: اوَّل ذِلَّت سے مرتا ہے، دوسرے بھوکامرتا ہے، تیسرے پیاس کی شِدَّت میں موت آتی ہے، اگرسمندر بھی پی لے تو پیاس نہیں بجھتی؛ قبرکے تین عذاب یہ ہیں: اوَّل اُس پرقبر اِتنی تنگ ہوجاتی ہے کہ پسلیاںایک دوسرے میں گھُس جاتی ہیں، دوسرے قبر میں آگ جَلا دی جاتی ہے، تیسرے قبر میں ایک سانپ اُس پرایسی شکل کا مُسلَّط ہوتا ہے جس کی آنکھیں آگ کی ہوتی ہیں، اور ناخن لوہے کے، اِتنے لانبے کہ ایک دن پورا چل کر اُن کے ختم تک پہنچا جائے، اُس کی آواز بجلی کی کڑک کی طرح ہوتی ہے، وہ یہ کہتا ہے کہ: مجھے میرے رب نے تجھ پر مُسلَّط کیا ہے، کہ تجھے صبح کی نماز ضائع کرنے کی وجہ سے آفتاب کے نکلنے تک مارے جاؤں، اور ظہر کی نماز ضائع کرنے کی وجہ سے عصر تک مارے جاؤں، اور پھر عصر کی نماز ضائع کرنے کی وجہ سے غروب تک، اور مغرب کی نماز ضائع کرنے کی وجہ سے عشاء تک، اور عشاء کی نمازکی وجہ سے صبح تک مارے جاؤں، جب وہ ایک دفعہ اُس کومارتا ہے تواِس کی وجہ سے وہ مُردہ سَتَّر ہاتھ زمین میں دَھنس جاتا ہے، اِسی طرح قِیامت تک اُس کوعذاب ہوتارہے گا؛ اور قبر سے نکلنے کے بعد کے تین عذاب یہ ہیں: ایک حساب سختی سے کیاجائے گا، دوسرے حق تَعَالیٰ شَانُہٗ کا اُس پرغُصَّہ ہوگا، تیسرے جہنَّم میں داخل کر دیاجائے گا۔ یہ کُل میزان چودہ ہوئی، ممکن ہے کہ پندرھواں بھول سے رہ گیاہو۔ اور ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ: اُس کے چہرے پرتین سَطریں لکھی ہوئی ہوتی ہیں: پہلی سطر، او اللہ کے حق کو ضائع کرنے والے!، دوسری سطر، اواللہ کے غصے کے ساتھ مخصوص!، تیسری سطر، جیسا کہ تُونے دنیا میں اللہ کے حق کوضائع کیاآج تُواللہ کی رحمت سے مایوس ہے۔ خوش وخُرَّم: راضی۔ صُلَحا: نیک لوگ۔ اِستحقاق: حق۔ مُسلَّط: مقرر کیا گیا۔ تائید: تَقوِیت۔ فَردِ جُرم: جُرم کے حساب کی فہرست۔ زَہے قسمت: خوش نصیبی۔ مَراحمِ خُسرَوَانَہ: شاہی عنایتیں۔ بالاتر: بہت اونچا۔ مَوقوف: روک۔ رِضا: خوشی۔ اُلفت: محبت۔ اِحاطہ: گھیراؤ۔ حَمد: تعریف۔ فَصیح:صاف۔ مُتَکبِّر:تکبُّر کرنے والا۔ اِیذا: تکلیف۔ سَہ بارہ: تیسری مرتبہ۔ چھَٹ: جدا ہونا۔ فرمائش: درخواست۔ رَفعت: بُلندی۔ فَروغ: ترقی۔ بَشارت: خوش خبری۔ عالَم: دنیا۔ مُنکشِف: کھل۔ کَفَّارہ: مٹانے والی۔ مَعرفت: خدا کی پہچان۔ وَحشت: گھبراہٹ۔ مُحافَظت: حفاظت۔صُلَحا: نیک لوگ۔ مُنوَّر: نور والا۔ اعمالِ بد: بُرے اعمال۔ مَقدُور: گنجائش۔ مُستَبعَد: دُور۔ صُلَحا: نیک لوگ۔ خَباثت: شرارت۔ وُسعت: