فضائل اعمال ۔ یونیکوڈ ۔ غیر موافق للمطبوع |
|
بے جا نہ ہوگااگر مَیں یہاں پہنچ کر سَربرآوَردگانِ قوم کی شکایت کروں کہ: قرآنِ پاک کی اِشاعت میں آپ کی طرف سے کیا اِعانت ہوتی ہے؟ اور یہی نہیں؛ بلکہ خدا را ذراغور سے جواب دیجیے کہ: اِس کے سلسلے کو بند کرنے میں آپ کا کس قدر حصہ ہے؟ آج اِس کی تعلیم کوبے کار بتلایا جاتا ہے، اِضاعتِ عمر سمجھا جاتا ہے، اِس کو بے کار دِماغ سوزی اور بے نتیجہ عَرق ریزی کہا جاتا ہے، ممکن ہے کہ آپ اِس کے موافق نہ ہوں؛ لیکن ایک جماعت جب ہَمہ تَن اِس میں کوشاں ہے تو کیا آپ کا سکوت اُس کی اِعانت نہیں ہے؟ مانا کہ آپ اِس خَیال سے بیزار ہیں؛ مگر آپ کی اِس بیزاری نے کیا فائدہ دیا؟ ہم نے مانا کہ تغافُل نہ کروگے لیکن ء خاک ہوجائیںگے ہم تم کو خبر ہونے تک آج اِس کی تعلیم پر بڑے زور سے اِس لیے انکار کیا جاتا ہے کہ، مسجد کے مُلَّانوںنے اپنے ٹکڑوں کے لیے دھندہ کررکھا ہے، گو یہ عامۃً نِیَّتوں پر حملہ ہے جو بڑی سخت ذمے داری ہے، اور اپنے وقت پر اِس کا ثبوت دینا ہوگا؛ مگر مَیں نہایت ہی ادب سے پوچھتا ہوں کہ: خدا را ذرا اِس کو تو غور کیجیے کہ، اِن خودغرض مُلاَّنوں کی اِن ’’خودغرضیوں‘‘ کے ثمَرات آپ دنیا میں کیا دیکھ رہے ہیں؟ اور آپ کی اِن ’’بے غرضانہ تجاویز‘‘ کے ثمرات کیا ہوںگے؟ اور نشر واشاعتِ کلام پاک میں آپ کی اِن ’’مُفِید تَجاویز‘‘ سے کس قدر مدد ملے گی؟ بہر حال حضور ﷺ کا ارشاد آپ کے لیے قرآن شریف پھیلانے کا ہے، اِس میں آپ خود ہی فیصلہ کرلیجیے کہ اِس ارشادِ نبوی ﷺ کا کس درجہ اِمتثال آپ کی ذات سے ہوا اور ہورہا ہے؟۔ ناگواری: ناپسندیدگی۔ دِلدادَہ: عاشق۔ حُجَّت:دلیل۔ کاہِل:سُست۔ اَلوان: رنگ۔ گِرویدہ: عاشق۔ مُتجاوِز: بڑھی ہوئی۔ دَرکار: مطلوب۔ پیش پیش: آگے آگے۔ مَخمَصے: جھگڑا۔ مُخلِصی: چھُٹکارا۔ وابستگی: تعلُّق۔ دیکھیے! ایک دوسری بات کا بھی خَیال رکھیں، بہت سے لوگوں کا یہ خَیال ہوتا ہے کہ ہم اِس خَیال میں شریک نہیں تو ہم کو کیا؟ مگر اِس سے آپ اللہ کی پکڑ سے نہیں بچ سکتے، صحابہ ثنے حضورِ اکرم ﷺسے پوچھا تھا: أَنُہْلِكُ وَفِیْنَا الصَّالِحُوْنَ؟ قَالَ: نَعَمْ، إذَا کَثُرَ الخُبْثُ: (کیا ہم ایسی حالت میں ہلاک ہوجاویںگے کہ ہم میں صُلَحا موجود ہوں؟ حضورﷺنے ارشاد فرمایا کہ: ہاں، جب خَباثَت غالب ہوجاوے)۔ اِسی طرح ایک روایت میں آیا ہے کہ: حق تَعَالیٰ شَانُہٗ نے ایک گاؤں کے اُلٹ دینے کا حکم فرمایا، حضرت جبرئیل ں نے عرض کیا کہ: اُس میں فلاں بندہ ایسا ہے کہ جس نے کبھی گناہ نہیں کیا، ارشاد ہوا کہ: صحیح ہے؛ مگر یہ میری نافرمانی ہوتے ہوئے دیکھتا رہا اورکبھی اُس کی پیشانی پر بَل نہیں پڑا۔ درحقیقت