فضائل اعمال ۔ یونیکوڈ ۔ غیر موافق للمطبوع |
|
اِس جگہ خُصوصِیت سے ایک بات کا لِحاظ رکھنے کی ضرورت ہے، وہ یہ کہ بہت سے لوگوں کا خَیال ہوتاہے کہ جلدی سے کسی مسجد میںآٹھ دس دن میںکلام مجید سن لیں پھر چھٹِّی، یہ خَیال رکھنے کی بات ہے کہ، یہ دوسنتیں الگ الگ ہیں: تمام کلامُ اللہ شریف کا تراویح میں پڑھنا یا سننا یہ مستقل سنت ہے، اور پورے رَمَضان شریف کی تراویح مُستقِل سنَّت ہے، پس اِس صورت میں ایک سنت پر عمل ہوا اور دوسری رہ گئی؛ البتہ جن لوگوں کو رَمَضانُ المبارک میں سفر وغیرہ یا اَور کسی وجہ سے ایک جگہ روزانہ تراویح پڑھنی مشکل ہو، اُن کے لیے مناسب ہے کہ اوَّل قرآن شریف چند روز میں سن لیں؛ تاکہ قرآن شریف ناقِص نہ رہے، پھر جہاں وقت ملا اور موقع ہوا وہاں تراویح پڑھ لی، کہ قرآن شریف بھی اِس صورت میں ناقِص نہیںہوگا، اور اپنے کا م کا بھی حَرج نہ ہوگا۔ حضورﷺ نے روزہ اور تراویح کا ذکر فرمانے کے بعد عام فرض اور نفل عبادات کے اَہتمام کی طرف مُتوجَّہ فرمایا، کہ اِس میں ایک نفل کا ثواب دوسرے مہینوں کے فرائِض کے برابر ہے، اور اِس کے ایک فرض کا ثواب دوسرے مہینوں کے ستّر فرائض کے برابر ہے۔ اِس جگہ ہم لوگوں کو اپنی اپنی عبادات کی طرف بھی ذرا غور کرنے کی ضرورت ہے، کہ اِس مبارک مہینے میں فرائض کا ہم سے کس قدر اہتمام ہوتاہے؟ اور نوافل میں کتنا اِضافہ ہوتاہے؟ فرائض میں تو ہمارے اہتمام کی یہ حالت ہے کہ، سَحر کھانے کے بعد جو سوتے ہیں تو اکثر صبح کی نماز قضا ہوگئی، اور کم از کم جماعت تو اکثروں کی فوت ہوہی جاتی ہے، گویا سَحر کھانے کا شکریہ اداکیا کہ، اللہ کے سب سے زیادہ مُہتَم بِالشان فرض کو یا بالکل قضا کردیا، یاکم از کم ناقِص کردیا، کہ بغیر جماعت کے نماز پڑھنے کو اہلِ اُصول نے ’’اَدائے ناقص‘‘ فرمایاہے، اور حضورِ اکرم ﷺ کا تو ایک جگہ ارشادہے کہ: ’’مسجد کے قریب رہنے والوں کی تو (گویا) نماز بغیر مسجد کے ہوتی ہی نہیں‘‘۔ ’’مَظاہرِ حق‘‘ میںلکھا ہے کہ: ’’جو شخص بغیر عذر کے بدونِ جماعت نماز پڑھتاہے اُس کے ذمَّے سے فرض تو ساقط ہو جاتا ہے؛ مگر اُس کو نماز کا ثواب نہیںملتا‘‘۔ اِسی طرح دوسری نماز مغرب کی بھی جماعت اکثروں کی افطار کی نذَر ہوجاتی ہے، اور رکعتِ اولیٰ یاتکبیرِ اولیٰ کا تو ذکر ہی کیاہے! اور بہت سے لوگ تو عشا کی نماز بھی تراویح کے احسان کے بدلے میںوقت سے پہلے ہی پڑھ لیتے ہیں۔ قَیلُولہ: دوپہر کو سونا۔ سَہَم: ڈر۔ ضُعف: کمزوری۔ پِیرانہ سالی: بُڑھاپا۔ تَناوُل فرماتے:کھاتے۔ مُراقِب: مراقَبہ میں۔ مُلاحَظہ فرماکر: دیکھنا۔ کُتُب بِینی: کتابیں دیکھنا۔ زیرِ نظر: نگاہ میں۔ تغیُّر: تبدیلی۔دَائمی: ہمیشہ۔ طُول: لمبائی۔ اِضافہ: زیادتی۔ یکے بعد دِیگرے: ایک کے بعددوسرا۔ گَوارا: پسند۔ فِنجان: چھوٹی پیالی۔ نوش فرمانا: پینا۔ یہ تو رمَضان المبارک میں ہماری نماز کا حال ہے جو اہم ترین فرائض میں ہے، کہ ایک فرض کے بدلے میںتین کو ضائع کیا۔ یہ تین تو اکثر ہیں؛ ورنہ ظہر