فضائل اعمال ۔ یونیکوڈ ۔ غیر موافق للمطبوع |
|
مگر اُس روزے دار کے ثواب سے کچھ کم نہیں کیا جائے گا، صحابہ ث نے عرض کیا کہ: یارسولَ اللہ! ہم میں سے ہر شخص تو اِتنی وُسعَت نہیںرکھتا کہ روزے دارکو اِفطار کرائے، تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ: (پیٹ بھر کھلانے پر مَوقُوف نہیں)، یہ ثواب تو اللہجَلَّ شَانُہٗ ایک کھجور سے کوئی افطار کرا دے، یاایک گھونٹ پانی پلاوے، یاایک گھونٹ لَسِّی پلاوے اُس پر بھی مَرحَمَت فرمادیتے ہیں۔ یہ ایسا مہینہ ہے کہ اِس کااوَّل حصَّہ اللہ کی رحمت ہے، اور درمیانی حصہ مَغفِرت ہے، اور آخری حصہ آگ سے آزادی ہے۔ جو شخص اِس مہینے میں ہَلکا کر دے اپنے غلام وخادم کے بوجھ کو، حق تَعَالیٰ شَانُہٗ اُس کی مغفرت فرماتے ہیں، اور آگ سے آزادی فرماتے ہیں۔ اور چار چیزوں کی اِس میںکثرت رکھا کرو، جن میںسے دوچیزیں اللہ تعالیٰ کی رَضاکے واسطے، اور دوچیزیں ایسی ہیں کہ جن سے تمھیں چارۂ کار نہیں، پہلی دوچیزیں جن سے تم اپنے رَب کو راضی کرو وہ کلمۂ طَیَّبہ اور اِستِغفارکی کثرت ہے، اور دوسری دوچیزیں یہ ہیںکہ: جنَّت کی طلب کرو اور آگ سے پناہ مانگو۔ جو شخص کسی روزے دار کو پانی پلائے حق تعالیٰ (قِیامت کے دن) میری حوض سے اُس کو ایسا پانی پلائیںگے جس کے بعد جنت میںداخل ہونے تک پیاس نہیں لگے گی۔ غم خواری: ہمدردی۔ خَلاصی: چھٹکارا۔ وُسعَت: گُنجائش۔ رَضا: خوشی۔ چارۂ کار: چھُٹکارا۔ رُوَاۃ: حدیث نقل کرنے والے۔ تَحمُّل: برداشت۔مُؤیِّد: تائید کرنے والی۔ فائدہ: مُحدِّثین کو اِس کے بعض رُوَاۃ میںکلام ہے؛ لیکن اوَّل تو فَضائل میںاِس قدر کلام قابلِ تَحمُّل ہے۔ دوسرے، اِس کے اکثر مضامین کی دوسری روایات مُؤیِّد ہیں۔ اِس حدیث سے چند اُمور معلوم ہوتے ہیں: اوَّل نبیٔ کریم ﷺ کا اہتمام، کہ شعبان کی اخیر تاریخ میںخاص طور سے اِس کا وعظ فرمایا، اور لوگوں کو تنبیہ فرمائی؛ تاکہ رمَضان المبارک کا ایک سیکنڈ بھی غَفلت سے نہ گزر جائے، پھر اِس وَعظ میںتمام مہینے کی فضیلت بیان فرمانے کے بعد چند اہم اُمور کی طرف خاص طور سے مُتوجَّہ فرمایا: سب سے اوَّل شبِ قدر، کہ وہ حقیقت میںبہت ہی اہم رات ہے؛اِن اَوراق میں اِس کا بیان دوسری فصل میں مستقل آئے گا۔ رَوافِض: شیعہ۔ مُنکِر: انکار کرنے والا۔ مُقاتَلہ: جنگ۔ ناقِص: ادُھورا۔ اِضافہ: زیادتی۔ مُہتَم بِالشان: نہایت اہم۔ اہلِ اُصول: اصولِ فقہ کے عُلما۔ نذَر: بھینٹ۔ اِس کے بعد اِرشاد ہے کہ: ’’اللہ نے اِس کے روزے کو فرض کیا اور اِس کے قِیام یعنی تراویح کو سنت کیا‘‘، اِس سے معلوم ہوا کہ تراویح کا ارشاد بھی خود حق سُبْحَانَہٗ وَتَقَدُّس کی طرف سے ہے، پھر جن روایات میںنبیٔ کریم ﷺ نے اِس کو اپنی طرف منسوب فرمایاکہ: ’’مَیںنے سنت کیا‘‘، اُن سے مراد تاکید ہے، کہ حضورﷺ اِس کی تاکید بہت فرماتے تھے؛ اِسی وجہ سے سب ائِمَّہ اِس کے سنَّت ہونے پر مُتفِق ہیں۔ ’’بُرہان‘‘ میںلکھا ہے کہ: مسلمانوں میں سے رَوافِض کے سِوا کوئی شخص اِس کا مُنکِر نہیں۔حضرت مولانا الشاہ عبدالحق صاحب مُحدِّث دہلویؒ نے ’’مَاثَبَتَ بِالسُّنَّۃ‘‘ میں بعض کُتُبِ فِقہ سے نقل کیا ہے کہ: کسی شہر کے لوگ اگر تراویح چھوڑدیں تو اِس کے چھوڑنے پر اِمام اُن سے مُقاتَلہ کرے۔