فضائل اعمال ۔ یونیکوڈ ۔ غیر موافق للمطبوع |
|
اُس کو اقرار بغیرچارۂ کار نہ ہوگا، حتیٰ کہ وہ گناہوں کی کثرت سے یہ سمجھے گا کہ مَیں ہلاک ہوگیا، تو ارشاد ہوگا کہ: ہم نے دنیا میں بھی تجھ پر سَتَّاری کی، آج بھی ستاری کرتے ہیں اور مُعاف کرتے ہیں؛ چناںچہ جب یہ شخص اور اِس جیسا جو ہوگا وہ حساب کے مَقام سے واپس جائے گا تو لوگ دیکھ کر کہیںگے کہ: یہ کیسا مبارک بندہ ہے کہ اِس نے کوئی گناہ کیا ہی نہیں؛ اِس لیے کہ اُن کو اِس کے گناہوں کی خبر ہی نہ ہوئی۔ اِسی طرح ایک نوع ایسی ہوگی کہ: اُن کے لیے چھوٹے بڑے گناہ ہوںگے، اِس کے بعد ارشاد ہوگا: اچھا اِن کے چھوٹے گناہوں کو نیکیوں سے بدل دو، تو وہ جلدی سے کہیںگے کہ: ابھی اَور بھی گناہ ایسے ہیں جو یہاں ذکر نہیں کیے گئے۔ اِسی طرح اَور انواع کا ذکر کیا ہے، کہ کس کس طرح سے پیشی اور حساب ہوگا؟۔(بہجۃ النفوس۔۔۔۔۔) حدیث میں ایک قصہ آتا ہے، نبیٔ کریم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ: مَیں اُس شخص کو پہچانتا ہوں جو سب سے اخیر میں جہنَّم سے نکالاجائے گا اور سب سے اخیر میں جنت میں داخل کیا جائے گا، ایک شخص کو بلایاجائے گا اور فرشتوں سے کہاجائے گا کہ: اِس کے بڑے بڑے گناہ تو ابھی ذکر نہ کیے جائیں، چھوٹے چھوٹے گناہ اِس کے سامنے پیش کیے جائیں، اُن پر باز پُرس کی جائے؛ چناںچہ یہ شروع ہوجائے گا، اور ایک ایک گناہ وقت کے حوالے کے ساتھ اُس کوجَتایا جائے گا، وہ اِنکار کیسے کرسکتا ہے؟ اقرار کرتا جائے گا، اِتنے میں ارشادِ ربِّی ہوگا کہ: اِس کو ہرگناہ کے بدلے ایک نیکی دی جائے، تو وہ جلدی سے کہے گا کہ: ابھی تو اَور بھی بہت سے گناہ باقی ہیں، اُن کاتوذکر ہی نہیں آیا۔ اِس قصے کو نقل فرماتے ہوئے حضورﷺ کو بھی ہنسی آگئی۔(مسلم،کتاب الایمان،باب إثبات الشفاعۃ وإخراج الموحدین من النار،حدیث:۱۹۰۔۱؍۱۰۶) اِس قصے میں اوَّل توجہنَّم میں سب سے اخیر میں نکلنا ہے، یہی کیا کم سزاہے؟ دوسرے کیا معلوم کون خوش قسمت ایسا ہوسکتا ہے کہ جس کے گناہوں کی تبدیل ہو! اِس لیے اللہ کی پاک ذات سے اُمید کرتے ہوئے فضل کا مانگتے رہنا بندگی کی شان ہے؛ لیکن اُس پر مُطمَئِن ہونا جُرأت ہے؛ البتہ سَیِّئات کو حَسَنات سے بدلنے کا سبب اخلاص سے مَجالسِ ذکر میں حاضری حدیثِ بالا سے معلوم ہوتی ہی ہے؛ لیکن اِخلاص بھی اللہ ہی کی عطا سے ہوسکتاہے۔ مُعتَد بِہٖ: لائقِ شمار۔ قال: کہنا۔ حال: عمل کرنا۔ جابِر: ظالم۔ مُتشدِّد: سخت مزاج۔ ٹھِلیاں: پانی بھرنے کا مٹی کا چھوٹا برتن۔ تَشدُّد: سختی۔ پِیر: بوڑھا۔ مُہمَل: بے معنیٰ۔ خوشامد: مَنَّت سَماجت۔ اعِزَّہ: رشتے دار۔ نہ دارد: نہ ملے۔ ایک ضروری بات یہ ہے کہ، جہنَّم سے اخیر میں نکلنے والے کے بارے میں مختلف روایات وارد ہوئی ہیں؛ لیکن اُن میں کوئی اشکال نہیں، ایک مُعتَد بِہٖ جماعت اگر نکلے گی تو بھی ہر شخص اخیر میں نکلنے والا ہے، اور جو قریب اخیر کے نکلے وہ بھی اخیر ہی کہلاتا ہے؛ نیز خاص خاص جماعت کا اخیر بھی