فضائل اعمال ۔ یونیکوڈ ۔ غیر موافق للمطبوع |
|
تو اُس کی دعا قبول ہوتی ہے، اور اگر یہ گمان کرے کہ، میری دعاقبول نہیں ہوتی، تو ویسا ہی مُعاملہ کیا جاتا ہے۔ چناںچہ دوسری احادیث میں آیا ہے کہ: بندے کی دعا قَبول ہوتی ہے جب تک یہ نہ کہنے لگے کہ: میری تو دعا قَبول نہیں ہوتی۔(۔۔۔۔۔۔۔۔۔) ٍ اِسی طرح صِحَّت، توَنگری وغیرہ سب اُمور کا حال ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ: جس شخص کو فاقے کی نوبت آئے، اگر اُس کو لوگوں سے کہتا پھرے تو تَوَنگری نصیب نہیںہوتی، اللہ کی بارگاہ میں عَرض مَعروض کرے تو جلد یہ حالت دور ہوجائے۔(مسند احمد،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حدیث: ۴۲۱۹) لیکن یہ ضروری ہے کہ اللہ تَعَالیٰ شَانُہٗکے ساتھ حُسنِ ظن اَور چیز ہے اور اللہ پر گھمنڈ دوسری چیز ہے، کلامُ اللہ شریف میں مختلف عُنوانات سے اِس پر تنبیہ کی گئی، ارشاد ہے: ﴿وَلَایَغُرَّنَّکُمْ بِاللّٰہِ الْغَرُوْرُ﴾: (اور دھوکے میں نہ ڈالے تم کو دھوکے باز) یعنی شیطان تم کو یہ نہ سمجھائے کہ گناہ کیے جاؤ، اللہ غَفُورٌ رَّحِیم ہے۔ دوسری جگہ ارشاد ہے: ﴿أَطَّلَعَ الْغَیْبَ أَمِ اتَّخَذَ عِنْدَالرَّحْمٰنِ عَہْداً، کَلَّا﴾ (کیا وہ غیب پر مُطّلِع ہوگیا یا اللہ تعالیٰ سے اُس نے عہد کرلیا ہے؟ ایسا ہرگز نہیں۔) دوسرا مضمون یہ ہے کہ، جب بندہ مجھے یاد کرتا ہے تومَیں اُس کے ساتھ ہوتا ہوں۔ دوسری حدیث میں ہے کہ: جب بندہ مجھے یاد کرتا ہے تو جب تک اُس کے ہونٹ میری یاد میں حرکت کرتے رہتے ہیں مَیں اُس کے ساتھ ہوتا ہوں۔ (۔۔۔۔۔۔۔) یعنی میری خاص توجُّہ اُس پر رہتی ہے، اور خُصوصی رحمت کا نُزول ہوتا رہتا ہے۔ تیسرا مضمون یہ ہے کہ، مَیںفرشتوں کے مجمع میں ذکر کرتا ہوں، یعنی تَفاخُر کے طور پر اِس کا ذکر فرمایا جاتا ہے، ایک تو اِس وجہ سے کہ، آدمی کی خِلقَت جس ترکیب سے ہوئی ہے اُس کے موافق اُس میں اِطاعت اور مَعصِیَت دونوں کامادَّہ رکھا ہے، -جیسا کہ حدیث نمبر ۸؍ کے ذیل میں آرہا ہے- اِس حالت میں طاعت کا کرنا یقیناً تفاخُر کا سبب ہے۔ دوسرے اِس وجہ سے کہ، فرشتوں نے ابتدائے خِلقَت کے وقت عَرض کیا تھا: آپ ایسی مخلوق کو پیدا فرماتے ہیں جو دنیا میں خون ریزی اور فَساد کرے گی، اور اِس کی وجہ بھی وہی مادۂ فساد کا اُن میں ہونا ہے، بخلاف فرشتوں کے، کہ اُن میں یہ مادَّہ نہیں؛ اِسی لیے اُنھوں نے عرض کیا تھا کہ: تیری تَسبیح وتَقدِیس ہم کرتے ہی ہیں۔ تیسرے اِس وجہ سے کہ، انسان کی اطاعت، اُس کی عبادت فرشتوں کی عبادت سے اِس وجہ سے بھی اَفضل ہے کہ، انسان کی عبادت غیب کے ساتھ ہے، اور فرشتوں کی عالَمِ آخرت کے مُشاہَدے کے ساتھ ہے، اِسی کی طرف اللہ پاک کے اِس کلام میں اشارہ ہے کہ: اگر وہ جنت ودوزخ کو دیکھ لیتے تو کیا ہوتا؟۔(بخاری،کتاب الدعوات، باب فضل ذکر اللہ،۲؍۹۴۸حدیث: ۶۴۰۸)