فضائل اعمال ۔ یونیکوڈ ۔ غیر موافق للمطبوع |
|
گناہ، اور اپنی حرکتوں اور گناہوں کی سزا اور بدلے کا یقین ہے؛ لیکن اللہ کی رحمت سے مایوس بھی نہیں ہونا چاہیے، کیا بعید ہے کہ حق تَعَالیٰ شَانُہٗمحض اپنے لُطف وکرم سے بالکل ہی مُعاف فرماویں! کہ ﴿إِنَّ اللہَ لَایَغْفِرُ أَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَادُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآئُ﴾ کلامُ اللہ شریف میں وَارِد ہے۔ترجَمہ: حق تَعَالیٰ شَانُہٗشرک کے گناہ کوتو مُعاف نہیں فرمائیںگے، اِس کے عِلاوہ جس کو چاہیںگے سب کچھ مُعاف فرمائیںگے؛ لیکن ضروری نہیں کہ مُعاف فرما ہی دیں، اِسی وجہ سے عُلَما فرماتے ہیںکہ: ایمان اُمید وخوف کے درمیان ہے۔ حضور اقدس ﷺایک نوجوان صحابی صکے پاس تشریف لے گئے، وہ نَزع کی حالت میں تھے، حضورﷺ نے دریافت فرمایا: کس حال میں ہو؟ عرض کیا: یا رسولَ اللہ! اللہ کی رحمت کا اُمید وار ہوں اور اپنے گناہوں سے ڈر رہا ہوں، حضورﷺ نے ارشاد فرمایا کہ: یہ دونوں یعنی: اُمید وخوف جس بندے کے دل میں ایسی حالت میں ہوں تو اللہ جَلَّ شَانُہٗ جو اُمید ہے وہ عطا فرمادیتے ہیں، اور جس کا خوف ہے اُس سے اَمن عطا فرمادیتے ہیں۔(جمعُ الفَوائد) (ترمذی،ابواب الجنائز، حدیث:۹۸۳،۱؍۱۹۲ ) ایک حدیث میں آیاہے کہ: مومن اپنے گناہ کو ایسا سمجھتا ہے کہ گویا ایک پہاڑ کے نیچے بیٹھا ہے اور وہ پہاڑ اُس پر گرنے لگا، اور فاجِر شخص گناہ کو ایسا سمجھتا ہے گویا ایک مَکھی بیٹھی تھی اُڑا دی، یعنی ذرا پرواہ نہیں ہوتی۔(بخاری،کتاب الدعوات،باب التوبۃ،۲؍۹۳۲ حدیث:۶۳۰۸) مقصود یہ ہے کہ، گناہ کا خوف اُس کے مُناسب ہونا چاہیے اور رحمت کی اُمید اُس کے مناسب۔حضرت مُعاذص طاعون میں شہید ہوئے، انتقال کے قریب زمانے میں بار بار غَشی ہوتی تھی، جب اِفاقہ ہوتا توفرماتے: ’’یااللہ! تجھے معلوم ہے کہ مجھ کو تجھ سے محبت ہے، تیری عزت کی قَسم! تجھے یہ بات معلوم ہے‘‘، جب بالکل موت کا وقت قریب آگیا تو فرمایا کہ: ’’اے موت! تیرا آنا مبارک ہے، کیا ہی مبارک مہمان آیا!؛ مگر فاقے کی حالت میں یہ مہمان آیا ہے‘‘، اِس کے بعد فرمایا: ’’اے اللہ! تجھے معلوم ہے کہ مَیں ہمیشہ تجھ سے ڈرتا رہا، آج تیرا اُمید وار ہوں، یااللہ! مجھے زندگی کی محبت تھی؛ مگر نہر کھودنے اور باغ لگانے کے واسطے نہیں تھی؛ بلکہ گرمیوں کی شِدَّتِ پیاس برداشت کرنے، اور (دِین کی خاطر) مَشقَّتیں جھیلنے کے واسطے، اور ذِکر کے حلقوں میں عُلَما کے پاس جَم کر بیٹھنے کے واسطے تھی۔ (تہذیبُ الاسماء واللُّغات۲؍۱۰۰) بعض عُلَما نے لکھا ہے کہ: حدیثِ بالا میں گمان کے موافق مُعاملہ عام حالات کے اعتبار سے ہے، خاص مغفرت کے متعلِّق نہیں، دُعا، صِحَّت، وُسعت، اَمن؛ وغیرہ سب چیزیں اِس میں داخل ہیں، مثلاً دُعا ہی کے متعلِّق سمجھو، مطلب یہ ہے کہ، اگر بندہ یہ یقین کرتا ہے کہ میری دعا قَبول ہوتی ہے اور ضرور ہوگی،