فضائل اعمال ۔ یونیکوڈ ۔ غیر موافق للمطبوع |
|
کہ: تم پر سلام (اور سلامتی) ہو، اِس وجہ سے کہ تم نے صبر کیا(یادِین پر مضبوط اورثابت قدم رہے)، پس کیا ہی اچھا انجام کار ٹھکانہ ہے!۔ اِنھیں لوگوں کی تعریف دوسری جگہ اِن الفاظ سے فرمائی گئی ہے: ﴿تَتَجَافیٰ جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفاً وَّطَمَعاً وَّمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَo فَلَاتَعْلَمُ نَفْسٌ مَاأُخْفِيَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّۃِ أَعْیُنٍ، جَزَآئً بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ﴾: وہ لوگ ایسے ہیں کہ رات کو اُن کے پہلُو اُن کے خواب گاہوں اور بستروں سے علاحدہ رہتے ہیں (کہ نمازپڑھتے رہتے ہیں، اور)اپنے رب کو عذاب کے ڈر سے اور ثواب کی اُمید میں پکارتے رہتے ہیں، اور ہماری عطا کی ہوئی چیزوں سے خرچ کرتے ہیں، سو کوئی بھی نہیں جانتاکہ ایسے لوگوں کے لیے کیاکچھ آنکھوں کی ٹھنڈک کاسامان پردۂ غیب میں موجود ہے، جوبدلہ ہے اُن کے نیک اعمال کا۔ اِنھیں لوگوں کی شان میں ہے: ﴿إِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِيْ جَنّٰتٍ وَّعُیُوْنٍ، آخِذِیْنَ مَاآتَاهُمْ رَبُّهُمْ، إِنَّهُمْ کَانُوْا قَبْلَ ذٰلِکَ مُحْسِنِیْنَo کَانُوْا قَلِیْلًا مِّنَ اللَّیْلِ مَا یَهْجَعُوْنَ، وَبِالْأَسْحَارِ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ﴾(پ؍۲۶ع؍۱۷) بے شک مُتقی لوگ جنَّتوں اورپانی کے چشموں کے درمیان میں ہوںگے، اور اُن کو اُن کے رب اورمالک نے جو کچھ ثواب عطا فرمایا اُس کو خوشی خوشی لے رہے ہوںگے، اورکیوں نہ ہوکہ وہ لوگ اِس سے پہلے (دنیا میں) اچھے کام کرنے والے تھے، وہ لوگ رات کوبہت کم سوتے تھے اور اَخیر شب میں اِستغفار کرنے والے تھے۔ ایک جگہ ارشادِ خداوندی ہے: ﴿أَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ آنَائَ اللَّیْلِ سَاجِداً وَّقَائِماً یَّحْذَرُ الْاٰخِرَۃَ وَیَرْجُوْا رَحْمَۃَ رَبِّہٖ، قُلْ هَلْ یَسْتَوِيْ الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَالَّذِیْنَ لَایَعْلَمُوْنَ، إِنَّمَا یَتَذَکَّرُ اُولُوْا الْأَلْبَابِ﴾ (پ؍۲۳ع؍۱۴) (کیا برابر ہوسکتا ہے بے دین)اور وہ شخص جوعبادت کرنے والا ہو رات کے اوقات میں، کبھی سجدہ کرنے والا ہو اورکبھی نیت باندھ کر کھڑاہونے والاہو، آخرت سے ڈرتا ہو اور اپنے رب کی رحمت کا اُمِّیدوار ہو، (اچھاآپ اِن سے یہ پوچھیں:) کہیں عالم اور جاہل برابر ہوسکتا ہے؟ (اور یہ ظاہر ہے کہ عالِم اپنے رب کی عبادت کرے ہی گا، اور جو ایسے کریم مولیٰ کی عبادت نہ کرے وہ جاہل بلکہ اَجہل ہے ہی)،نصیحت وہی لوگ مانتے ہیں جواہلِ عقل ہیں۔ ایک جگہ ارشاد ہے: ﴿إِنَّ الإِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوْعاً، إِذَا مَسَّہُ الشَّرُّ جَزُوْعاً، وَّإِذَا مَسَّہُ الْخَیْرُمَنُوْعاً، إِلَّاالْمُصَلِّیْنَ الَّذِیْنَ هُمْ عَلیٰ صَلَاتِهِمْ دَائِمُوْنَ﴾:اِس میں شک نہیں کہ انسان غیرمُستَقِل مِزاج پیدا ہوا ہے کہ، جب کوئی تکلیف اُس کوپہنچتی ہے تو بہت زیادہ گھبرا جاتاہے، اورجب کوئی بھلائی پہنچتی ہے توبُخل کرنے لگتا ہے کہ دوسرے کو یہ بھلائی نہ پہنچے؛ مگر(ہاں!)وہ نمازی جواپنی نماز کے ہمیشہ پابند رہتے ہیں، اورسکون ووَقار سے پڑھنے والے ہیں۔ آگے اِن کی اَور چند صفتیں ذکر فرمانے کے بعد ارشاد ہے کہ: ﴿وَالَّذِیْنَ ھُمْ عَلیٰ صَلوٰتِهِمْ یُحَافِظُوْنَo اُولٰئِکَ فِيْ جَنّٰتٍ مُّکْرَمُوْنَ﴾ (پ؍۲۹ع؍۶) اوروہ