فضائل اعمال ۔ یونیکوڈ ۔ غیر موافق للمطبوع |
|
ہوتا ہے، اور کوئی حرکت ایسی بھی نہ کرجائیے کہ ’’نیکی برباد گناہ لازم‘‘۔ (حدیث؍ ۶ و۷): وَمَا عَلَینَا إِلَّا البَلَاغَ. مجھ سا ناکارہ قرآنِ پاک کی خوبیوں پرکیا مُتنبَّہ ہوسکتا ہے؟ ناقص سمجھ کے موافق جو ظاہری طور پر سمجھ میں آیا ظاہر کردیا؛ مگر اہلِ فہم کے لیے غور کا راستہ ضرور کھل گیا؛ اِس لیے کہ اسبابِ محبت -جن کو اہلِ فن نے کسی کے ساتھ محبت کاذریعہ بتلایا ہے- پانچ چیزمیں مُنحَصَر ہیں: اول: اپنا وجود، کہ طبعاً آدمی اُس کومحبوب رکھتا ہے، قرآن شریف میں حوادِث سے امن ہے؛ اِس لیے وہ اپنی حیات وبَقا کا سبب ہے۔ دوسرے: طبعی مُناسَبت، جس کے متعلِّق اِس سے زیادہ وَضاحت کیا کرسکتا ہوں کہ کلام صفتِ الٰہی ہے، اور مالک اور مملوک، آقا وبندہ میں جومُناسَبت ہے وہ واقفوں سے مَخفِی نہیں: ہَست ربُّ النَّاس را با جانِ ناس ء اتِّصالے بے تَکیُّف و بے قیاس سب سے ربطِ آشنائی ہے اُسے ء دل میں ہر اک کے رَسائی ہے اُسے تیسرے: جمال، چوتھے: کمال، پانچویں: احسان؛ اِن ہرسہ اُمور کے متعلِّق احادیثِ بالا میں اگر غور فرمائیںگے، تو نہ صرف اُس جمال وکمال پر جس کی طرف ایک ناقصُ الفہم نے اشارہ کیا ہے اِقتصار کریںگے؛ بلکہ وہ خود بے تردُّد اِس اَمر تک پہنچیںگے کہ، عزت واِفتخار، چین وسکون، جمال وکمال، اِکرام واحسان، لَذَّت وراحت، مال ومَتاع؛ غرض کوئی بھی ایسی چیز نہ پاویںگے جو محبت کے اسباب میں ہوسکتی ہے اور نبیٔ کریم ﷺ نے اُس پر تنبیہ فرما کر قرآن شریف کو اُسی نوع میں اُس سے افضل نہ ارشاد فرمایا ہو؛ البتہ حجاب میں مستُور ہونا دنیا کے لَوازِمات میں سے ہے؛ لیکن عقل مند شخص اِس وجہ سے کہ لِیچی کا چھِلکا خاردار ہے؛ اِس لیے گُودے سے اعراض نہیں کرتا، اور کوئی دل کھویا ہوا اپنی محبوبہ سے اِس لیے نفرت نہیں کرتا کہ وہ اِس وقت برقعہ میں ہے، پردے کے ہٹانے کی ہرممکن سے ممکن کوشش کرے گا، اور کامیاب نہ بھی ہوسکا تو اُس پردے کے اوپر ہی سے آنکھیں ٹھنڈی کرے گا، اِس کا یقین ہوجاوے کہ جس کی خاطر برسوں سے سرگَرداں ہوں وہ اِسی چادر میں ہے، ممکن نہیں کہ پھر اُس چادر سے نگاہ ہٹ سکے؛ اِسی طرح کلامِ پاک کے اِن فضائل ومَناقِب اور کمالات کے بعد اگر وہ کسی حجاب کی وجہ سے محسوس نہیں ہوتے، تو عاقل کا کام نہیں کہ اُس سے بے توجُّہی اور لاپرواہی کرے؛ بلکہ اپنی تقصیر اور نقصان پر افسوس کرے اور کمالات میں غور۔