فضائل اعمال ۔ یونیکوڈ ۔ غیر موافق للمطبوع |
|
الضریس، وابن أبي حاتم، والبیهقي في الشعب؛ کذا في الدر) ترجَمہ: حضرت اسماء رَضِيَ اللہُ عَنْهَا حضورِ اقدس ﷺسے نقل کرتی ہیں کہ: اللہ کا سب سے بڑا نام (جو اسمِ اعظم کے نام سے عام طورپر مشہور ہے)اِن دو آیتوں میں ہے (بہ شرطے کہ اِخلاص سے پڑھی جائیں): ﴿وَإِلٰـہُکُمْ إِلٰہٌ وَّاحِدٌ، لَا إِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِیْمُ﴾ [البقرۃ، ع:۱۹] ﴿اَللہُ لا إِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْحَيُّ الْقَیُّومُ﴾. [اٰل عمران ع:۱] مُہتَم بِالشَّان: نہایت اَہم۔ اِخفا: پوشیدہ ہونا۔ مُتمرِّد: سرکَش۔ اِستِحضار: دھیان۔ ضَبط وتحمُّل: قابو اور برداشت۔اِستِدعا: درخواست۔ فائدہ: اسمِ اَعظم کے متعلِّق روایاتِ حدیث میں کثرت سے یہ وارد ہوا ہے کہ: جو دعا بھی اُس کے بعدمانگی جاتی ہے وہ قَبول ہوتی ہے۔(ترمذی،ابواب الدعوات، ۲؍ ۱۹۴ حدیث:۳۵۴۴) البتہ اسمِ اعظم کی تعیین میں رِوایات مختلف وَارِد ہوئی ہیں، اور یہ عادتُ اللہ ہے کہ ہر ایسی مُہتَم بِالشَّان چیز میں اِخفا کی وجہ سے اختلاف پیدا فرمادیتے ہیں، چناںچہ شبِ قدر کی تعیین میں، جمعہ کے دن میں دعا قَبول ہونے کے خاص وقت میں اختلاف ہوا، اِس میں بہت سی مَصالِح ہیں، جن کومَیں اپنے رسالہ ’’فضائلِ رمَضان‘‘ میں لکھ چکا ہوں؛ اِسی طرح اسمِ اعظم کی تعیین میں بھی مختلف روایات وَارِد ہوئیں، مِن جُملہ اُن کے یہ روایت بھی ہے جو اُوپر ذکر کی گئی، اَور بھی روایات میں اِن آیتوں کے متعلِّق ارشاد وارد ہوا ہے: حضرت انسص حضورﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ: مُتمرِّد اور شَرِّی شیاطین پر اِن دوآیتوں سے زیادہ سخت کوئی آیت نہیں، وہ دو آیتیں ﴿وَإِلٰـہُکُمْ إِلٰہٌ وَّاحِدٌ﴾ سے شروع ہیں۔ (دُرِّمنثور۱؍۳۹۴) ابراہیم بن دَسمہؒ کہتے ہیں کہ: مجنونانہ حالت، نظر وغیرہ کے لیے اِن آیات کاپڑھنا مُفِید ہے، جو شخص اِن آیات کے پڑھنے کا اِہتِمام رکھے اِس قِسم کی چیزوں سے محفوظ رہے۔ ﴿وَإِلٰـہُکُمْ إِلٰہٌ وَّاحِدٌ﴾ پوری آیت [البقرۃ، ع:۱۹]، ﴿اَللہُ لَا إِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْحَيُّ الْقَیُّومُ﴾ آیۃ الکرسی ،اور سورۂ بقرہ کی آخر آیت اور ﴿إِنَّ رَبَّکُمُ اللہُ الَّذِيْ خَلَقَ﴾ سے ﴿مُحْسِنِیْنَ﴾ تک [الأعراف ع:۱۴]، اور سورۂ حشر کی آخر آیتیں: ﴿ہُوَ اللہُ الَّذِيْلَا إِلٰہَ إِلَّا ہُوَ﴾سے؛ ہمیں یہ بات پہنچی کہ: سب آیات (جن کو گِنوایا) عرش کے کونوں پر لکھی ہوئی ہیں۔ اور ابراہیمؒ یہ بھی کہا کرتے تھے کہ: بچوں کو اگر ڈر لگتا ہو یا نظرکا اندیشہ ہوتو یہ آیات اُن کے لیے لکھ دیا کرو۔(تاریخ ابن عساکر۷؍۱۷۳) علاَّمہ شامیؒ نے حضرت امامِ اعظمؒ سے نقل کیا ہے کہ: اسمِ اعظم لفظِ اللہ ہے، اور لکھا ہے کہ: یہی قول علامہ طحاویؒ اور بہت سے عُلَما سے نقل کیا گیا ہے، اور اکثر عارِفین (اکابرِ صوفیا) کی یہی تحقیق ہے، اِسی وجہ سے اُن کے نزدیک ذکر بھی اِسی پاک نام کا کثرت سے ہوتا ہے۔ سَیِّدُ الطَّائِفہ حضرت شیخ عبدالقادر جِیلانی -نَوَّرَ اللہُ مَرقَدَہٗ- سے بھی یہی نقل کیا