فضائل اعمال ۔ یونیکوڈ ۔ غیر موافق للمطبوع |
|
ایک حدیث میںآیا ہے کہ: جس مجلس میں اللہ کا ذکر نہ ہو، حضورﷺپر درود نہ ہو، اُس مجلس والے ایسے ہیں جیسے مَرے ہوئے گدھے پر سے اُٹھے ہو۔ (ابوداود،کتاب الادب،باب کراہیۃ الرجل أن یقوم من مجلسہ ولایذکر اللہ،حدیث:۴۸۵۵،ص:۶۶۶) ایک حدیث میں آیا ہے کہ: مَجلِس کا کَفَّارہ یہ ہے کہ: اُس کے اِختِتام پر یہ دعا پڑھ لے: سُبْحَانَ اللہِ وَبِحَمْدِہٖ، سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوْبُ إِلَیْكَ. (ترمذی،کتاب الدعوات،باب مایقول إذا قام من مجلسہ، حدیث: ۳۴۳۳، ۲؍ ۱۸۱) ایک دوسری حدیث میں آیا ہے کہ: جوبھی مجلس ایسی ہو جس میں اللہ کا ذکر، حضور ﷺ پر درود شریف نہ ہو، وہ مجلس قِیامت کے دن حسرت اور نقصان کاسبب ہوگی، پھر حقتَعَالیٰ شَانُہٗ اپنے لُطف سے چاہے مغفرت فرماویں چاہے مُطالَبہ اور عذاب فرماویں۔ (ترمذی،باب الدعوات،باب ماجاء في القوم یجلسون ولایذکرون اللہ،حدیث:۳۳۸۰،۲؍۱۷۵) ایک حدیث میں ہے کہ: مجلسوں کا حق ادا کیا کرو، اور وہ یہ ہے کہ: اللہ کا ذکر اُن میں کثرت سے کرو، راہ گِیروں کو بہ وقتِ ضرورت راستہ بتاؤ، اور (ناجائزچیز سامنے آجائے تو)آنکھیں بند کرلو، (یا نیچی کرلو کہ اُس پرنگاہ نہ پڑے)۔ (مسند احمد،۔۔۔۔۔۔۔۔۔حدیث:۱۶۳۶۷) حضرت علی کَرَّم اللہُ وَجْہَہٗ ارشاد فرماتے ہیں کہ: جو شخص یہ چاہے کہ اُس کا ثواب بہت بڑی ترازو میں تُلے( یعنی: ثواب بہت زیادہ مقدار میں ہو کہ وہی بڑی ترازو میں تُلے گا، معمولی چیز تو بڑی ترازو کے پاسَنگ میں آجائے گی) اُس کو چاہیے کہ مَجلِس کے ختم پر یہ دعا پڑھاکرے: سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَی الْمُرْسَلِیْنَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ. (حِصن وهَامِشُہٗ)(تفسیر بغوی۔۔۔۔۔۔۔) حدیثِ بالا میں بُرائیوںکے نیکیوںسے بدل دینے کی بَشارت بھی ہے، قرآنِ پاک میں بھی سورۂ فرقان کے ختم پر مؤمنین کی چند صفات ذکر فرمانے کے بعد ارشاد ہے: ﴿فَأُولٰئِکَ یُبَدِّلُ اللہُ سَیِّئَاتِہِمْ حَسَنَاتٍ، وَّکَانَ اللہُ غَفُوراً رَّحِیماً﴾ (پس یہی لوگ ہیں جن کی بُرائیوں کو حق تعالیٰ نیکیوں سے بدل دیتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ غفورٌ رَحیم ہیں)۔ اِس آیتِ شریفہ کے مُتعلِّق عُلَمائے تفسیر کے چند اَقوال ہیں: ایک یہ کہ: سَیِّئات مُعاف فرمادی جائیںگی اور حَسنَات باقی رہ جائیںگی، گویا یہ بھی تبدیل ہے کہ سیئہ کوئی باقی نہیں رہی۔ دوسرے یہ کہ: اُن لوگوں کو بجائے بُرے اعمال کرنے کے نیک اعمال کی توفیق حق تَعَالیٰ شَانُہٗکے یہاں نصیب ہوگی، جیسا کہ بولتے ہیں: ’’گرمی کے بجائے سردی ہوگئی‘‘۔ تیسرے یہ کہ: اُن کی عادتوں کا تعلُّق بجائے بُری چیزوں کے اچھی چیزوں کے ساتھ وَابَستہ ہوجاتا ہے، اِس کی تَوضِیح یہ ہے کہ: آدمی کی عادتیں طَبعی ہوتی ہیں جو بدلتی نہیں، اِسی وجہ سے ضَربُ المَثَل ہے: ’’جَبَل گَردَد جِبِلَّت نہ