اصلاح انقلاب امت - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
فانی، تو کیا آخرت کے اتنے بڑے ثواب کی تحصیل کے لیے کہ اس سے زیادہ کوئی منفعت نہیں، اور اتنے بڑے گناہ وعذاب سے بچنے کے لیے کہ اس سے بڑھ کر کوئی مضرّت نہیں، اور پھر دونوں یقینی اور باقی اور ضروری الرعایت بے پروائی اور سستی کی جائے، کتنی بڑی نادانی ہے۔ اور اگر سبب اس کا بخل ہے، تو فوری علاج تو اس کا ان ہی منافع ومضار کا استحضار ہے، جس کا ابھی بیان ہوا، اور باقاعدہ علاج اس کا یہ ہے کہ مادّئہ بخل کا استیضا کیا جائے، جس کی تدبیریں کتبِ فن میں ملیں گی۔قربانی کے عبادت ہونے میں شبہ : بعض لوگوں کو اس سے بڑھ کر ایک سبب اس ترک کا ہوگیا ہے کہ وہ اس کے عبادت ہونے میں شبہ کرتے ہیں، بالخصوص حج کی قربانی کو بہ وجہ کثرتِ ذبائح محض اضاعتِ مال ہی سمجھتے ہیں، ان کی اصلاح یہی ہے کہ وہ ۔ُعلمائے محققین سے اپنی تسلی مفصل شبہات پیش کرکے کرلیں۔ مجمل یہ ہے کہ عبادت کی حقیقت امتثالِ امرِ الٰہی ہے، جب اس کا مامور بہ ہونا ثابت ہے پھر عبادت ہونے میں کیا شک ہے؟ رہا یہ سوال کہ اَمرِ الٰہی کس حکمت سے ہو؟ گو ایسے سوالات کے جواب میں اس وقت خاص دلچسپی سے کام لیا جاتاہے، مگر سچا جواب یہ ہے کہ یہ سوال ہم سے پیش نہیں کیا جاسکتا، کیوںکہ ہم بانی ٔقانون نہیں جو قانون کی ۔ِلم جاننے کے مدعی ہوں، ہم ناقل و حاکیٔ قانون ہیں، جب واضعِ قانون کے رُو برو کھڑے کیے جائیں گے، اگر ۔ّہمت ہوگی پوچھ لینا، پھر جو جواب ان کے نزدیک مصلحت ہوگا عنایت کردیں گے، خواہ تقریر ومقال سے، خواہ تعزیر ونکال سے۔ دفعاتِ قوانین کی علل وکلا یا مجسٹریٹ وجج سے پوچھنا سخت نادانی ہے، اگر کوئی پوچھے بھی، ان کو یہ جواب دینے کا حق ہے کہ واضعانِ قانون سے پوچھو، ہم اس کے ذ۔ّمہ دار نہیں۔ تو ۔ُعلما ایسے سائلوں کو ایسا جواب کیوں نہیں دے سکتے۔ اور جب دے سکتے ہیں تو کیوں نہیں دیتے؟ کیوں سائل کی بے محل فرمایش کا اتباع کرتے ہیں؟ اسی طرح اضاعتِ مال کے شبہ کا جواب ہے کہ اضاعت اس وقت ہوتی ہے جب اس میں کوئی فائدہ نہ ہوتا، اور جب فائدہ اس میں رضائے حق ہے جس کا مقابلہ کوئی فائدہ نہیں کرسکتا تو اضاعت کیسے ہوئی؟سستی قربانی کی تلاش : ایک کوتاہی یہ ہے کہ بعض وسعت والے قربانی کرتے تو ہیں، مگر بڑی کوشش اس کی ہوتی ہے