اصلاح انقلاب امت - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
نکاح جوکہ عمر بھر کے لیے دو شخصوں کا تعلق ہے، جس کے ساتھ ہزاروں معاملات وابستہ ہیں، وہ تو کسی کا، اور رائے ہو دوسرے کی۔ گو ان دو شخصوں کے مصالح کے یقینا خلاف ہی ہو، اور گو وہ اپنی ناخوشی بھی ظاہر کرتے ہوں، مگر ان کو ذرا نہ پوچھا جائے، اور زبردستی نکاح کردیا جائے، بعض دفعہ عین وقت تک متناکحین یا ان میں سے ایک برابر انکار کرتاہے مگر اس کو گھونٹ اورجبر کرکے خاموش اور لب بند کردیا جاتاہے، اور عمر بھر کی مصیبت میں اس کو جوت دیاجاتاہے، کیا یہ عقل اور نقل کے خلاف نہیں ہے؟ اور کیا اس میں ہزاروں خرابیوں کا مشاہدہ نہیں کیا جاتا؟ اور پھر کیا اُن خرابیوں کا کوئی انتظام یا اِنسداد (روک تھام) کیا جاتاہے؟ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہر جگہ لڑکے لڑکی سے کہلوانا ضروری ہے۔صغیر یا صغیرہ پر ولایتِ جبریہ حاصل ہے : یا صغیر و صغیرہ پرولایتِ جبر یہ کوئی چیز نہیں، یا بالغہ پر ولایتِ استئذانیہ سکوتیہ (ایسی ولایت جس میں ولیٔ نکاح کی اجازت مانگنے پر صرف خاموشی کافی ہے) کا انکار ہے، یا اولیا کو مصالح مشخص کرنے کاحق نہیں، سو یہ مطلب نہیں، کیوںکہ یقینا بعض جگہ لڑکا اور لڑکی ذی رائے، اکثر جگہ ذی رائے نہیں ہوتے، تو ان نادانوں کی رائے کیا، اور اس پر اعتمادہی کیا، نابالغ ہونے کی حالت میں اگرشاذ ونادر ذی رائے بھی ہوں تو شاذ و نادر کاکیااعتبار؟ یا بالغ اور ذی رائے ہونے کے باوجود حیا، جو خاصۂ فطریہ ہے انوثت و بکارت (عورت اور دوشیزگی) کا، وہ طبعاً مانع ہوتی ہے تکلّم (بات کرنے) اور اظہارِ رائے سے، بعض جگہ بلوغ وعقل کے انتظار میں موقعِ صالح ہاتھ سے نکل جاتاہے جو ظاہراً عاقد (عقدِ نکاح کرنے والے) کی سعی سے عمر بھر بھی نصیب نہ ہوگا۔ نیز اکثر جگہ اولیا اپنے تجربے اور شفقت سے جو تجویز کریں گے وہ مصلحت ہی ہوگی، اسی واسطے شریعتِ ۔ّمقدسہ نے اپنے احکام وقواعد میں ان سب واقعات کا لحاظ کرکے مکمل قانون بنادیا، اس لیے میرا یہ مطلب ہرگز نہیں، اور نہ کوئی عاقل یہ بات تجویز کرسکتا ہے کہ بالکل متناکحین کی رائے پر رکھ دو، بلکہ مطلب یہ ہے کہ اولیا اپنے تجربے وشفقت سے مصالح پر پوری نظر کرکے اس کے بعد بھی احتیاطاً و نظراً الی العواقب (احتیاط کے ساتھ نتائج پر غور کرتے ہوئے) اگر لڑکا لڑکی بالغ ہوں جو (بہ وجہ اس کے کہ اکثر بلوغ سبب ہوتاہے ذی رائے ہونے کا) شرعاً ذی رائے قرار دیا گیا ہے۔نکاح سے قبل زوجین سے ان کی مرضی اور رائے معلوم کرنے کا احسن طریقہ : اس صورت میں قبل اس کے کہ باضابطہ اُن کی رضا و اِذن (رضامندی و اجازت) حاصل کی جائے، یعنی باکرہ بالغہ (بالغ کنواری) کو سناکر اس کے سکوت