اصلاح انقلاب امت - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
پیرفقیر، شہید، ولی کے نامزد کردیتے
ہیں، سو اگر خود وہ بزرگ ہی اس سے مقصود ہے تو وہ {مَا اُہِلَّ بِہٖ لِغَیْرِ اللّٰہِج} الآیۃ (یعنی جس چیز پر غیراللہ کانام لیا گیاہو) میں داخل ہوکر بڑی دور یعنی ۔ّحدِ شرک تک پہنچ گیا، اور بعض غلاۃ ۔ُجہلاکا واقعی یہی عقیدہ ہے، سو ایسی چیز کا تناول بھی درست نہیں۔
اور اگر مقصود اس عمل سے حق تعالیٰ ہے اور ان بزرگ کو محض ثواب ہی بخشنا ہے تو وہ اس حد تک تو نہیں پہنچا اورظاہراً جائز بھی ہے، لیکن عوام بلکہ بعض خواص کالعوام کے حالات وخیالات کی تفتیش سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ محض ثواب ہی پہنچانے کو مقصود نہیں سمجھتے بلکہ ان کی نیت یہ ہوتی ہے کہ فلاں ولی کو ثواب پہنچے گا تو وہ خوش ہوںگے اور ہماری اس حاجت میں مدد کریں گے، خواہ ۔ّتصرفِ باطن سے اور زیادہ عقیدہ یہی ہے اور اس کا بھی قریب شرک ہونا ظاہر ہے، اور خواہ دُعا سے، سو احتمال دُعا کا عقیدہ تو ناجائز نہیں، لیکن دو عقیدے اس میں بھی فاسد ہیں: ایک اس احتمال کے وقوع کا عقیدہ کرنا کہ جس پر کوئی دلیل نہیں اور بلا دلیل عقیدہ کرنا کذبِ نفس اور مخالف ہے آیت: {لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌط}1 (جس کا تجھے علم نہیں اس کے پیچھے نہ پڑ)کی، دوسرے بعد فرضِ وقوع دُعا اس دُعا کے بالقطع مقبول ہوجانے کا عقیدہ کرنا، دعا تو بعض اوقات حضرات انبیا ؑ کی بھی کسی مصلحت سے قبول نہیں ہوتی، تابغیر انبیا چہ رسد!
اس لیے مصلحت یہی ہے کہ جب بزرگوں کو کچھ بخشنا ہو، اپنی حاجت کا خیال ان میں نہ ملایا کریں کہ توحید کے خلاف ہے، کما ذُکر۔ اور اگر بہت ہی احتیاط کی تو اخلاص کے تو خلاف ہے۔ ایسی مثال ہوگئی کہ کسی زندہ کو ہدیہ دیا، وہ سمجھا کہ محبت سے دیا اور خوش ہوا، پھر معلوم ہوا کہ کسی مطلب کو دیافوراً وہ مکدّر ہوجاوے گا۔
صدقے میں ردّی اورخراب چیز نہ دینا چاہیے : ایک کوتاہی یہ ہے کہ اکثر لوگ اللہ کے نام کی وہ چیزیں نکالتے ہیں جو کسی کے کام کی نہ رہی ہو، مثلاً: کھانا جب دیں گے کہ سڑ جاوے، کپڑا جب دیں گے کہ گل جاوے، وعلی ہذہ۔ حق تعالیٰ کا ارشاد ہے:
{وَلَا تَیَمَّمُوا الْخَبِیْثَ مِنْہُ تُنْفِقُوْنَ وَلَسْتُمْ بِاٰخِذِیْہِ اِلَّآ اَنْ تُغْمِضُوْا فِیْہِط وَاعْلَمُوْآ اَنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ
حَمِیْدٌO}1