اصلاح انقلاب امت - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
اس مراقبے کو اوّل سے آخر تک بالالتزام کرے، ان شاء اللہ تعالیٰ اوّل تو بلا قصد بھی کوئی خیال نہ آئے گا اور اگر فرضاًآجائے تو پھر اس سوچ میں نہ پڑے کہ ارے یہ تو پھر خطرات آنے لگے، یہ سوچ بھی خیالِ غیر ہے، بلکہ اسی عملِ تجدیدتعلقِ ارادہ وتوجہ کو بہ طریقِ مذکور آیندہ کے لیے پھر تازہ کردے پھر وہ خطرات دفع ہوجائیں گے۔ وہذا من إفادات أستاذي أستاذ الکل حضرت مولانا محمد یعقوب علیہ رحمۃ اللّٰہ علام الغیوب۔1 اور اس احقر کا ایک وعظ خشوع کے ہر پہلو پر مفصل بحث میں شائع ہوچکا ہے، جس کانام ’’مواعظِ اشرفیہ‘‘ ہے، اس کے ملاحظہ سے ان شاء اللہ تعالیٰ اس باب میں کسی قسم کا خفا باقی نہ رہے گا۔متفرق کوتاہیاں : ایک کوتاہی، کہ ذی شعبِ مختلفہ ہے اور اسی پر اپنی تحریر کو ختم کرنا چاہتاہوں، یہ ہے کہ نماز اتنی بڑی ضروری چیز اور پھر روزانہ پانچ بار واقع ہونے والی اور اس کے شرائط وارکان کے ہر جزو اور ہر موقع پر بے شمار صورتیں پیش آتی ہیں جن کے احکام بہت لوگوں کو معلوم نہیں، مگر باوجود اس کے بہت کم دیکھا جاتاہے کہ ان احکام و مسائل کو لوگ دریافت کرتے ہوں۔ ۱۔ بہت لوگ ناواقفی سے بلا اضطرار اس طرح جمائی لیتے ہیں یا بلا عذر کھنکارتے ہیں کہ حروف ظاہر ہوکر نماز جاتی رہتی ہے۔ ۲۔ بہت لوگ ایسے لباس غیر مشروع سے نماز پڑھتے ہیں کہ نماز ان کی قبول نہیں ہوتی، بالخصوص بعض اقسام ریشم ومخمل کے استعمال میں تو خواص تک بے احتیاطی کرتے ہیں۔ ۳۔ بعض لوگ ہجوم میں امام سے پہلے نیت باندھ لیتے ہیں کہ وہ نماز ہی نہیں ہوتی۔ ۴۔ بعض لوگ امام کے ساتھ رکوع میں اس طرح شامل ہوتے ہیں کہ اللہ اکبر کہتے ہی رُکوع میںپہنچ جاتے ہیں اور اوّل قیام نہیں کرتے، ان کی نماز بھی نہیں ہوتی۔ ۵۔ بعض لوگ قعدئہ اخیرہ میں امام کے ساتھ شریک ہونا چاہتے ہیں، مگر ان کی تکبیرِ تحریمہ ختم کرنے سے پہلے امام سلام پھیر دیتا ہے تو وہ اقتدا صحیح نہیں ہوتی اور نیتِ اقتدا موضعِ انفراد میں مفسدئہ صلاۃ ہے، ان کی نماز بھی نہیں ہوتی، از سرِ نو نماز شروع کرنا چاہیے۔ ۶۔ اسی طرح بعض اوقات امام سہواً بعد قعدۂ اخیرہ کے کھڑا ہوجاتا ہے تو مسبوق بھی اقتدا کی حیثیت سے ساتھ اُٹھ کھڑا ہوتا ہے، حالاںکہ اس وقت مسبوق کو اقتدا جائز نہیں، تو اس کی نماز بھی فاسد ہوجاتی