اصلاح انقلاب امت - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
زُہد و تقویٰ اور صدق و صفا میں کوشش کرو مگر مصطفیﷺ سے آگے مت بڑھو۔ البتہ ایسے لوگوں کو اگر نرمی وترغیب سے تکمیلِ مراتبِ مستحبہ کی طرف متوجہ کیا جائے، عین خیر خواہی و مطلوب فی الدین ہے۔ضروری تنبیہ : اور ایک ضروری اَمر قابلِ تنبیہ یہ ہے کہ بعض اوقات شوق و محبتِ نبویہ کی کمی کا غلط شبہ ہوجاتاہے اور یہ شبہ توقیر و توجہ الی الذات کے غلبے کے محل میں غیر عارف کو ہوجاتا ہے، لیکن فی الواقع وہ بھی محبتِ نبویہ ہی کا ایک لون ہے، شرح اس کی رسالہ ’’نشرا لطیب1‘‘ میں بہ ضمن حکمتِ دُرود شریف کی ہے۔ بس شرح ضروری سب جماعات کی حالت کی ختم ہوئی اور طریقِ اصلاح سب کا بہ قدرِ کافی اصل مضمون میں مذکور ہوچکا ہے، اس میں شرح کی حاجت نہ سمجھی، اصل مضمون کو دیکھ کر سب اپنی اصلاح کرسکتے ہیں۔ إن أرید إلا الإصلاح ما استطعت وما توفیقي إلا با للّٰہ علیہ توکلت و إلیہ أنیب، وإن ربي قریب مجیب۔نماز کے متعلق کوتاہیاں (اصلاحِ معاملہ بہ نماز) بعد ایمان اعمال میں نماز کا جو درجہ ہے وہ کسی عمل کو حاصل نہیں اور اس کا مقتضا یہ تھا کہ مسلمانوں کو اس کا ایسا خاص اہتمام ہوتا کہ اس میں کوئی نقص نہ رہتا، مگر ہماری کم توجہی وغفلت نے اس کو بھی کوتاہیوں سے خالی نہ چھوڑا۔ جن میں سے بعض کا بیان اس موقع پر کیا جاتاہے اور اس کے قبل یہ اَمر بھی قابلِ عرض کردینے کے ہے کہ نماز میں اختلال کا جو وبال ہے وہ اس خاص حیثیت کے اعتبار سے بہ نسبت دوسرے اَعمال کے اختلال کے زیادہ ہے کہ نماز فرض ہے اور ہر دن رات میں پانچ بار فرض ہے، اس میں کوتاہی کرنا حق تعالیٰ کو دن بھر پانچ بار ناخوش کرنا ہے۔ بہ خلاف دوسرے اعمال کے کہ بعض فرض نہیں اور یا فرض ہیں تو روزانہ فرض نہیں، جیسے: ’’روزہ‘‘ کہ سال بھر میں فرض ہوتا ہے اور ’’زکوٰۃ‘‘ کہ وہ بھی سال بھر میں فرض ہوتی ہے اور ’’حج‘‘ کہ عمر بھر میں ایک بار فرض ہوتاہے، اور زکوٰۃ اور حج تو سب پر فرض بھی نہیں ہوتا، یہ تفاوت تو نماز کو اور افعال سے ہے۔