اصلاح انقلاب امت - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
غلطی کرکے تمسّک بہ تقدیر کا عذر غلط ہے : اور اگر ایسا ہی تمسّک بہ تقدیر (تقدیر کو تھامنا) ہے تو بس کل کو کسی کو قتل کردیجیو، جب سزائے موت کے لیے پکڑے جاؤ تو کہہ دینا کہ ’’ہم نے توصرف ایک گولی ماری تھی، تقدیر کی کیا خبر تھی کہ ایک گولی سے مرہی جائے گا۔‘‘ دیکھیں تو سہی! اس عذر سے تم کوکون چھوڑ دے گا؟ خدا نکردہ (خدا نہ کرے) اگر وہ مقتول تمہارا ہی کوئی لگتا ہو تو دیکھیں گے کہ تم قاتل کا یہ عذر قبول کرلوگے؟ یہ سب بے ہودہ باتیں ہیں، کاش! اگر بجائے اس کے اس وقت اپنی غلطی کا اعتراف ہی کرلیتے تو مظلوم کی کچھ تو تسلی ہوجاتی، ان بے ہودہ جوابوں سے تو دگنا اس کے زخم پر نمک چھڑکا جاتاہے کہ ایک تو مجھ کو پھنسایا، پھر کیسی صفائی سے ۔َبری ہوتے ہیں۔پسندیدہ زمانۂ نکاح بعد بلوغ کے ہی ہے : اگرناکح و منکوحہ نابالغ ہوں، اور اچھا موقع فوت ہوتا ہو تو دوسری بات ہے، اور اگر ایسی کوئی ضروری مصلحت نہیں ہے، محض رسم ہی کا اتباع ہے تو خود یہ رسم مٹانے کے قابل ہے، گو نکاح صحیح ہوجاتاہے، انکار نہیں ، حق تعالیٰ کا ارشاد ہے: {وَابْتَلُوْا الْیَتٰمٰی حَتّٰٓی اِذَا بَلَغُوْا النِّکَاحَج} 1 اور تم یتیموں کو آزما لیا کرو یہاں تک کہ وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں۔ صاف ۔ُمشیر ہے کہ پسندیدہ زمانہ نکاح کا بعد بلوغ کے ہے۔قانونِ شرعیہ سے زیادہ جامع اور مراعیٔ مصالح کوئی نہیں ہوسکتا : اور اس کوتاہی کے مقابل ایک۔ُغلو ہے، جو اس وقت اکثر نو تعلیم یافتوں میں بڑھتا جاتاہے، وہ یہ کہ خلافِ مرضی نکاح کے بعض واقعاتِ ۔ّمضرہ (نقصان دہ) انھوں نے احکامِ شرعیہ پر طعن اور ان احکام کے مقابلے میں یورپ کے رسم ورواج کو ترجیح دینا شروع کیا، مجھ کو ان صاحبوں سے تعجب ہے کہ یہ حضرات اِتباعِ فطرت و تحقیقِ واقعات (انسانی فطرت کی تقلید اور واقعات کی چھان بین) کے از حد ۔ّمدعی