اصلاح انقلاب امت - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
تنگ دست شوہر ماما رکھنے پر مجبور نہیں : اور ایک کوتاہی بعض عورتوںکی طرف سے یہ ہوتی ہے کہ باوجود شوہر کے تنگ دست ہونے کے اس کو مجبور کرتی ہیں کہ ماما لادے، حالاںکہ شوہر کی تنگ دستی کی صورت میں مرد اس پر مجبور نہیں ہے، بلکہ دیکھا جائے گا کہ عورت اپنے کام پر قادر ہے یا نہیں؟ اگر قادر ہے تو اپنا کھانا بھی پکائے، اور شوہر کا بھی پکائے، اور اگر قادر نہیں خواہ کسی مرض کے سبب، خواہ امیر کبیر ہونے کے سبب، تو نہ شوہر ماما لانے پر مجبور ہے اور نہ عورت کھاناپکانے پر، بلکہ شوہر سے کہا جائے گا کہ تیار شدہ کھانا عورت کو لاکردے، خواہ بازار سے یا کہیں اورپکوا کر۔ (کذا في الدّر المختار)تنگ دستی کی حالت میں عورت کو تفریق کا مطالبہ کرنا جائز نہیں : ایک کوتاہی بعض عورتوں کی طرف سے یہ ہوتی ہے کہ جہاں ذرا نفقہ میں تنگی ہوئی، انھوں نے تفریق کی درخواست شروع کی، سو سمجھ لینا چاہیے کہ سخت تنگی کی حالت میں گو بعض ائمہ کے نزدیک قاضی کو تفریق جائز ہے، لیکن اوّل تو یہاں شرعی قاضی نہیں، اور بدون قاضی شرعی کے کسی کے نزدیک بھی تفریق صحیح نہیں، دوسرے ہمارے مذہبِ حنفی میں خود قاضی کے ہوتے ہوئے بھی اس خاص وجہ سے تفریق جائز نہیں، بلکہ قاضی عورت کو حکم دے گا کہ تو قرض لے کر خرچ کرتی رہ، اور وہ قرض بہ ذ۔ّمہ شوہر ہوگا۔روشن خیال حضرات کو حقیقی ہمدردی کی نشاندہی : بعضے روشن خیال ایسی صورتوں میں بہ زعم خود ۔ُعلما پر اور در حقیقت شریعت پر اعتراض کیا کرتے ہیں کہ تفریق کا جائز نہ ہونا عورت کے حقوق کا تلف کرنا ہے، کیوںکہ ہمارے دیار میں شرعی قاضی تو ہے نہیں تو خود عورت کو ایسی مجبوری میں تفریق کے اختیارات ہونے چاہئیں، ورنہ اگر اس کو قرض بھی نہ ملے تو پھر کہاں سے کھائے؟ میں کہتا ہوں کہ آپ صاحبوںکو تو یہ آسان ہے کہ عورت شریعت پر اعتراض کرکے اپنا دین برباد کرنے لگے، اس سے زیادہ آسان تو یہ تھا کہ اس کی ہمدردی میں اپنا کچھ مال ۔َصرف کرتے، اور ایسے ستم دیدہ غم رسیدہ کی مددکرتے، اور یہ تو خیال کرنا چاہیے کہ آپ کی اس رائے میں عورت کی تو ہمدردی ہوگئی، لیکن کیا ایسا مجبور مرد قابل ہمدردی کے نہیں؟ کیا اس کی یہی ہمدردی ہے کہ اس کی بی بی کو جو اس کے لیے کسی قدر مایۂ اُنس و تسلی تھی، اس سے جدا کردیا جائے؟ اور جو