اصلاح انقلاب امت - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
کے بعد اس کا غلط ہونا سمجھا دیا جاتا کہ دینی احکام کو دنیاوی مصالح پر قیاس نہیں کرسکتے کہ یہ تمہارے اختیاری اُمور ہیں اور وہ بہ وجۂ ایجابِ الٰہی کے غیر اختیاری، تو ایک کا قیاس دوسرے پرچہ معنی؟ لیکن جب دُنیوی مقاصد کے لیے بڑی بڑی مصیبتیں جھیلی جاتی ہیں اس حالت میں تو نماز کے باب میں ان کا یہ عذر قابلِ سماعت بھی نہیں، تا بہ قبول چہ رسد۔ بعضے آدمی کھڑے ہوکر نہیں پڑھتے باوجودے کہ کھڑے ہوسکتے ہیں، سو ان کی نماز بھی نہیں ہوتی، البتہ اگر قیام پر قدرت نہ ہو یعنی کسی سہارے سے بھی کھڑے نہ ہوسکیں، تب البتہ بیٹھ کر پڑھنا درست ہے، اس مسئلے میں لوگ بہ حالتِ مرض بھی سخت غلطی کرتے ہیں، یعنی ذرا مشقت ہوگئی اور بیٹھ کر نماز پڑھنے لگے۔ الدرّمختار و ردّ المحتار میں تصریح ہے کہ اگر کسی سہارے سے کھڑا ہوسکے تب بھی کھڑا ہونا فرض ہے۔ اسی طرح اگر آدمی قرأ ت میں کھڑا ہوسکتا ہے یا بہ قدر ِتکبیر ِتحریمہ کھڑا ہوسکتا ہے تو اتنا ہی کھڑا ہونا فرض ہے۔ بعضے آدمی باوجودے کہ جماعت کرسکتے ہیں، مگر پھر تنہا تنہا پڑھ لیتے ہیں۔ بعضے آدمی سمجھتے ہیں کہ جماعت کے لیے اتحادِ مکان شرط ہے اور ہر درجہ جدا مکان ہے، ایک درجے میں اتنی جگہ نہیں اس لیے جماعت نہیں کرتے، سو ہمارے نزدیک تو دوسری گاڑی تو بے شک دوسرا مکان ہے، لیکن ایک گاڑی کے ۔ّمتعدد درجے سب ایک ہی مکان ہیں، ان میں جماعت ہوسکتی ہے۔ اور اگر کسی صاحبِ علم کی یہی تحقیق ہو یا کسی عالم کی اس تحقیق میں کوئی تقلید کرتا ہو کہ ہر درجہ جدا مکان ہے، خیر یوں کریں کہ ایک ایک درجے میں دو دو آدمی جماعت کرلیں، اگر اصوات کا تزاحم نہ ہو تو ایک ہی وقت میں، ورنہ آگے پیچھے۔ اورچوںکہ یہ مسجدِ محلہ نہیں اس لیے اس میں تکرارِ جماعت کااختلاف بھی نہ ہوگا۔حد سے زیادہ تشدد بھی نہیں کرنا چاہیے : بعضے آدمی ان بے احتیاطیوں کے مقابلے میں اس قدر محتاط بنتے ہیں کہ ان کی احتیاط درجہ تشد۔ّد تک پہنچ جاتی ہے، مثلاً: ریل کے اندر ہر گز نماز نہ پڑھیں گے، اسٹیشن ہی پر اترنا فرض سمجھیں گے، جس میں بعض اوقات طرح طرح کی پریشانیوں کا سامنا ہوتا ہے، مثلاً: اسباب ریل ہی میں رکھا ہے اور کچھ جاتا رہا، یا کم از کم طبیعت اُدھر مشغول رہی، یا دوسرے مسافروں نے ان کی جگہ پر قبضہ کرلیا، یا نہیں کیا لیکن ان کو اس احتمال پر پریشانی رہی، اور مثلا: گاڑی نے سیٹی دے دی اور ان کو نیت توڑنا پڑی، یا ایسا نہیں کیا لیکن مضطرب ہوگئے اور بعض اوقات گاڑی چھوٹ گئی اور ان کے اسباب کا نقصان یا سفر کا حرج ہوا، اس وقت خود نماز سے قلب میں خدا ناخواستہ تنگی پیدا ہوگئی یا خود ان کو تنگی نہیں ہوئی، لیکن جو لوگ ہمیشہ دین کو مخلِ دنیا کہا کرتے ہیں اور اس وجہ سے ان کو دین سے تو۔ّحش ہے ان کا تنفر اور تو۔ّحش اور بڑھ گیا اور ان کی فہرست میں ایک عدد اور بڑھ گیا کہ ’’دیکھئے! دین پر عمل کرنے سے یہ پریشانی اور