آئینہ رمضان - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
تعالی عنہا کی روایت سے استدلال کرتے ہیں جس کو امام بخاری نے روایت کیا ہے ماکان یزید فی رمضان و لا فی غیرہ علی احد عشر رکعۃ اس کے بارے میں وضاحت فرمائیں ۔ الجواب حامداًومصلیاً ومسلماً: محققین علما ء کے نزدیک اس روایت سے نماز تراویح مراد نہیں اور کسی بھی محدث نے اس کو تراویح کے باب میں نہیں لیا ہے محدثین میں سے امام مسلم ، امام مالک ، امام عبدالرزاق ، امام ابوداؤد ، امام نسائی ، امام ترمذی ، امام ابوعوانہ ، امام ابن خزیمہ ، امام مروزی ، امام دارمی ، صاحب بلوغ المرام ، صاحب مشکاۃ ان تمام نے یہ حدیث نقل فرمائی ہے لیکن تراویح کے باب میں نہیں ۔ دوم یہ کہ اور اس روایت کے الفاظ سے بھی اس طرف اشارہ ہو رہا ہے کہ اس سے نماز تہجد مراد ہے ۔ کیونکہ اس روایت میں ہے کہ ماکان فی رمضان و لافی غیرہ اور یہ سب جانتے ہیں کہ غیر رمضان میں تراویح نہیں ہوتی ۔ سوم یہ کہ اس روایت میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل چار چا ر رکعت پڑھنے کا نقل کیا ہے ۔ اگر اس سے تراویح کی نماز مراد ہے تو غیر مقلدین اس پر عمل کیوں نہیں کرتے چار چار رکعتیں اکٹھی تراویح کی کیوں نہیں پڑھتے ۔ سنت پر عمل کیوں نہیں کرتے ۔چہارم یہ کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے دور میں تراویح کی نماز باجماعت بیس رکعات قائم کی گئیں تو اس سوقت حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا حیات تھیں انھوں نے بیس رکعت کے اوپر کوئی نکیر نہ فرمائی ۔ اگر بیس رکعتیں سنت کے خلاف ہوتیں تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کبھی برداشت نہیں کرتے ۔ دور تابعین میں بیس رکعت تراویح کا ثبوت سوال: جیسا کہ ابھی گزرا ہے کہ حضر ت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے دور خلافت میں بیس رکعتیں تراویح اور وتر پڑھائی جاتی تھیں تابعین رحمۃ اللہ علیہم کے دور میں کیا عمل تھا اس سے آگاہ فرمائیے ۔ الجواب حامداًومصلیاً ومسلماً: حضرت سوید بن غفلۃ امامت کراتے تھے حضرت ابوالحضیب فرماتے ہیں ۔ کان یؤمنا سویدبن غفلۃ فی رمضان فیصلی خمس ترویحات عشرین رکعۃ حضرت سویدبن غفلۃ رضی اللہ تعالی عنہ رمضان میں ہمیں باجماعت پانچ ترویحات (بیس ر کعات پڑھا یا کرتے تھے ۔ (بہیقی ج۲؍۴۹) عن ابی البختری انہ کان یصلی خمس ترویحات فی رمضان و یوتر بثلاث۔ حضرت ابوالبختری سے مروی ہے کہ وہ رمضان میں پانچ ترویحات یعنی بیس