آئینہ رمضان - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
صدقہ فطر اپنی طرف سے اور اپنی نابالغ اولاد کی طرف سے واجب ہے
سوال: زید ایک شخص ہے جو گھر کا مالک ہے ، اور اس کے متعلقین بہ تفصیل ذیل لوگ ہیں ۔ زوجہ زید ، بیٹا
بالغ، حقیقی بھائی ، زوجہ حقیقی بھائی کے بیٹے کی، دو زوجہ ، اور چار زید کی لڑکیاں ، ایک لڑکی جوان ، بیاہی جو سسرال میں رہتی ہے ، اور کبھی کبھی اس کے یہاں آجاتی ہے، دوسری نابالغ بے بیاہی ، تیسری نابالغ بیاہی ، یہ دونوں آخر الذکر زید کے یہاں رہتی ہیں ، چوتھی نابالغ بیاہی جو سسرال میں رہتی ہے ، زید کی بہن بیاہی ہوئی جو بطور مہمان ہونے کو آگئی ہے ، ایک خادمہ بے باپ وبے ماں ، وشوہر کے جس کا کھانا کپڑا زید کے ذمہ ہے ان میں سے کس کس کا صدقہ فطر زید کے ذمہ باقی ہے ؟
الجواب حامدا ومصلیاً ومسلماً: زید کے ذمہ صرف اپنی طرف سے اور اپنی نابالغ اولاد کی طرف سے
جو کہ نادار ہوں صدقہ فطر واجب ہے ، مگر جو لڑکی نابالغ بیاہی گئی ہو اور خاوند کے گھر رخصت ہوگئی ہو بشرطیکہ خاوند کی خدمت کے لائق ہو تو اس لڑکی کا صدقہ فطر بذمہ زید واجب نہیں ۔ فی الدر المختار : عن نفسہ وطفلہ الفقیر إلی قولہ ولو زوج طفلتہ الصالحۃ لخدمۃ الزوج فلا فطر آہ ۔ وفی الدر المحتار:
لو سلمت لزوجہا لا تجب فطرتہا علی أبیہا ۔فقط واللہ تعالی أعلم ۔
{نواں باب }
عیدین کا بیان
{پہلی فصل }
عیدین کے فضائل کابیان
عید کی راتوں میں عبادت کی ترغیب
حضرت ابوامامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس نے عیدین کی دونوں راتوں میں ثواب کی نیت سے عبادت کی تو اس کا دل (قیامت کے) اس (ہولناک) دن میں مردہ نہیں ہوگا جس دن لوگوں کے دل (خوف و دہشت سے )مردہ ہوں گے‘ (ابن ماجہ)
من قام ليلتي العيدين لله محتسبا لم يمت قلبه حين تموت القلوب( بيهقي في شعب الايمان ج2ص 341)
عید کا دن انعام تقسیم ہونے کا دن